BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 October, 2008, 13:46 GMT 18:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اجلاس خفیہ نہ ہو: چودھری نثار

چوہدری نثار علی خان (فائل فوٹو)
چوہدری نثار نے جمعہ کو پنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ نون کے ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ ایک اخباری کانفرنس کی
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی سلامتی کے بارے میں بند کمرے میں ہونےوالے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو اوپن کردیا جائے اور عوام کو اس سے آگاہ کیا جائے۔

جمعہ کے روز پنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ نون کے ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بارے میں کوئی پالیسی نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو بند کمرے میں ہونے والہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس محض دکھاوا ہوگا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ حکومت اپنی خارجہ پالیسی کے بارے میں بھی بیان دیں کہ اُن کے امریکہ اور دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات کس نوعیت کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے جو ارکان پارلیمنٹ کو شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی ہے اس سے تقریباً تمام ارکان پارلیمنٹ آگاہ ہیں اور جن معاملات سے ارکان پارلیمنٹ آگاہ نہیں تھے اُس کے بارے میں داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک اور وزیر دفاع چوہدری احمد مختار کی طرف سے بیان آچکے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کو روکنا ممکن نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ امریکی جہازوں کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اُن کے پاس ایسے آلات نہیں ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ جمعرات کے روز پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس میں دیگر سیاسی جماعتوں نے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن سے مختلف سوالات کیےجن کا اُن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور ان کا کا کہنا تھا کہ ان سوالوں کے جوابات وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے پاس ہیں۔

چودھری نثار نے مطالبہ کیا کہ حکومت وہ تمام معاہدے منظر عام پر لائے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے مختلف ملکوں کے ساتھ کیے گئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما نے کہا کہ اُن کی جماعت سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی پالیسوں کو جاری رکھنے کی حمایت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا کہ اُن کی جماعت کے رہنما میاں محمد نواز شریف شدت پسندوں کی ہِٹ لسٹ میں سرفہرست ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد کا سعودی عرب میں طالبان کے گروپوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی کردار نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد