BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہزاروں طلبہء تعلیم سے محروم

طالبان لڑکیوں کے سکول کو تباہ کر رہے ہیں

صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ علاقے میں موجود سترہ تعلیمی ادارے سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے قبضہ میں ہیں جس کی وجہ سے پانچ ہزار سے زائد طلباء و طالبات تعلیم کے حصول سے محروم ہوچکے ہیں۔

محکمہ تعلیم کی ایک رپورٹ کے مطابق علاقے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی وجہ سے ایک سو ستاسی سکول متاثر ہوئے ہیں جن میں لڑکیوں کے ایک سو ترپن سکول بھی شامل ہیں۔

سوات کے محمکہ تعلیم کے ایک اعلی آفسر فضل احد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوات کے شورش زدہ علاقوں میں نذرِ آتش کیے جانے والے ایک سو پانچ سے زائد سکولوں کے علاوہ پندرہ ایسے سکول بھی ہیں جن پر سکیورٹی فورسز نے قبضہ کیا ہے۔ ان کے بقول ان سکولوں میں پانچ ہزار ایک سو اڑسٹھ طلباء و طالبات تعلیم کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔

ان کے مطابق دو سکولوں پر طالبان کا قبضہ ہے جن میں دو چھیاسٹھ طالبانء و طالبات زیر تعلیم تھے۔ فضل احد کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں جن ایک سو پانچ سے زائد سکولوں کو نذرِ آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے ان میں اکہتر لڑکیوں کے ہیں۔ ان سکولوں میں سترہ ہزار چھ سو چورانوے طالبات تعلیم حاصل کررہی تھیں۔

اس کے علاوہ ان کے بقول امن و امان کی بڑھتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے لڑکیوں کے باسٹھ سکول بند پڑے ہیں جس کے باعث بارہ سو اٹھاون بچیاں اپنےگھروں تک ہی محدود ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک سو ستاسی سکولوں کے متاثر ہونے سے مجموعی طور پر تنتیس ہزار ایک سو اُناسی طلباء و طالبات علم کے حصول سے محررم ہوچکے ہیں۔

ایجوکیشن آفسر کا کہنا ہے کہ محمکمہ تعلیم سوات نے متاثرہ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات کو تعلیم دینے کے لیے صوبائی حکام سے ملکر ایک متبادل منصوبے پر غور شروع کردیا ہے۔ ان کے بقول اس منصوبے کے تحت ان طلباء و طالبات کے لیے خیموں یا کرایے پر عمارت حاصل کرکے تعلیم دینے کا بندوبست کیا جائے گا یا پھر تیسری صورت یہی ہوسکتی ہے کہ متاثرہ سکولوں سے قریب ترین تعلیمی اداروں میں طلباء اور اساتذہ کو شفٹ کرکے تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

 ’سکول کی تباہی کی خبر سُن کر میں نےبہت سی طالبات کو روتے ہوئے دیکھا۔ پہلے ہم فوج کے ہمنواء تھے مگر اب وہ طالبان کا راستہ روکنے پر مجبور ہوگئے ہیں جس کی واضح مثال یہ ہے کہ طالبان نےصدر مقام مینگورہ میں داخل ہوکر اتنے اہم، معیاری اور بڑے تعلیمی اداروں کو تباہ کردیا اور پھر آرام سے فرار ہونے میں کا میاب ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ فوج اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کی قیمت ہم طلباء و طالبات تعلیم سے محرومی کی صورت میں ادا کررہے ہیں۔‘
طالبہ پلوشہ

پچھے سال اکتوبر سے سوات میں مقامی طالبان کے خلاف فوجی آپرشین میں حکومتی املاک میں سب سے زیادہ تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے جس کی وجہ سے مقامی حکام کے مطابق علاقے میں بچوں یا بچیوں کی تعلیمی اداروں میں داخلے کی شرح میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔

منگل کے روز مسلح طالبان کے ہاتھوں تباہ ہونے والے سوات کے بارہ سو لڑکیوں پر مشتمل مشنری گرلز ہائی سکول کی طالبہ پلوشہ کا کہنا ہے کہ انہیں سخت صدمہ پہنچا ہے۔

ان کے بقول ’سکول کی تباہی کی خبر سُن کر میں نےبہت سی طالبات کو روتے ہوئے دیکھا۔ پہلے ہم فوج کے ہمنواء تھے مگر اب وہ طالبان کا راستہ روکنے پر مجبور ہوگئے ہیں جس کی واضح مثال یہ ہے کہ طالبان نےصدر مقام مینگورہ میں داخل ہوکر اتنے اہم، معیاری اور بڑے تعلیمی اداروں کو تباہ کردیا اور پھر آرام سے فرار ہونے میں کا میاب ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ فوج اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کی قیمت ہم طلباء و طالبات تعلیم سے محرومی کی صورت میں ادا کررہے ہیں۔‘

سوال یہ ہے کہ آخر مسلح طالبان تعلیم اداروں کو تبا ہ کیوں کررہے ہیں۔؟ سوات میں سکولوں کی تباہی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے پروفیسر خادم حسین کا کہنا ہے کہ اس سے طالبان تین مقاصد حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔

ان کے بقول طالبان کا سب سے اہم مقصد یہی ہے کہ وہ جدید تعلیمی نظام کو مفلوج کرکے ایک طریقے سے مستقبل کے لیے جنگجؤوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ان کے مطابق ’طالبان کی قیادت جانتی ہے کہ جہاں تعلیم ہوگی وہاں شعور ہوگا، سوالات اٹھائیں جائیں گے اور معاشرے سے توہم پرستی کا خاتمہ ہوگا اور جب ایسا ہوگا تو کوئی بھی ان کا ساتھ نہیں دے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس طرح طالبان حکومتی رٹ چیلج کرکے اس پر دباؤ بڑھاتے ہیں جبکہ علاقے میں خوف و دہشت پھلانا اس کی تیسری وجہ ہوسکتی ہے۔

پروفیسر خادم حسین ایک اور اہم نقطے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن ایک سو پانچ سے زائد سکولوں کو نذرِ آتش کیا گیا ہے ان میں نجی تعلیمی اداروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے بقول اس سے یہ نتیجہ اخد کیا جاسکتا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کا کوئی مالک نہیں ہے اور چونکہ نجی تعلیم ادارے کسی کی مقامی شخص کی ملکیت ہوتے ہیں اس لیے مسلح طالبان انتقام کی خوف سےانہیں نقصان پہنچانے کی جرات نہیں کرسکتے۔

تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کے لیے طالبان کی سوچ کو بھی پڑھنے کی ضرورت ہے۔ سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان کے ساتھ اس بارے میں بات ہوئی۔ پہلے تو انہوں منگل کو مشنری ہائی سکول اور ایکسیئل سیئر کالج کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام لگا یا کہ’ اس مشنری سکول کا پرنسپل اور اساتذہ عیسائی تھے جو مبینہ طور’ عیسائیت‘ کا پرچار کررہے تھے۔

ان سے پوچھا گیا کہ اگر مشنری سکول کو اس لیے تباہ کیا گیا کہ آپ کے الزام کے تحت وہاں پر مبینہ طور پر’ عیسائت کا پرچار‘ کیا جارہا تھا تو پھر باقی ایک سو پانچ سے زائد سکولوں جہاں پر پڑھنے اور پڑھانے والے سارے مسلمان تھے تو انہیں کیوں نذرِ آتش کیا گیا۔

مسلم خان کا کہنا تھا ’ کہ حکومت نے لال مسجد میں بچیوں کو مار دیاہے اور ہم نے تو صرف عمارتیں تباہ کردی ہیں۔ہم اس لیے بھی سکولوں کو نشانہ بنارہے ہیں کہ حکومت پاکستان کے مغربی دوستوں کو اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے جبکہ تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض سکولوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات ہیں اس لیے انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

اسی بارے میں
سوات: تین مزید سکول نذرآتش
05 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد