’زرداری نے وعدے پورے نہیں کیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ صدر آصف زرداری نے جو وعدہ کیے تھے انہیں پورا نہیں کیا حالانکہ ان وعدوں کو پورا کرنا پاکستان اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری تھا۔ بارہ اکتوبر کو’یوم دفاع جمہوریت‘ کے سلسلہ میں رائے ونڈ میں اپنی رہائش گاہ پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کسی کی نیت پر شک نہیں لیکن اخلاص نیت کو ثابت کرنے کےلیے تین نومبر کے اقدامات تحفظ نہ دیا جائے بلکہ ختم کیا جائے‘۔ ان کے بقول’اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ سب کہانیاں ہیں اور آئین، پارلیمان اور جمہوریت کی توہین اور ناانصافی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ فرض تھا کہ وہ سمت کا تعین کر کے ٹھوس اقدامات کرتی لیکن حکومت نےلیت و لعل سے کام لیا۔ مسلم لیگ نون کے قائد نے مطالبہ کیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کو پارلیمنٹ میں طلب کیا جائے اور ان سے ان کے اقدامات کی جواب طلبی کی جائے۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا مقصد ایک قومی پالیسی بنانا اور اس پر عملدرآمد کرانا ہے کیونکہ پاکستان کو مشرف پالیسی نہیں بلکہ قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول پارلیمنٹ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو پالیسی بنائے اس قومی پالیسی کی اولین ترجیح مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنا ہو۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ’اگر برطانیہ آئرلینڈ کے دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرسکتی ہے تو یہ(شدت پسندی کا) معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ قومی مفاد میں ہمیں یہ راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی اب تک کی بریفنگ سے ان کی جماعت مطمئن نہیں ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ جامع بریفنگ دی جائے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ آمریت کا راستہ روکنے کے لیے ضروری ہے کہ آمروں کا کڑا احتساب کیا جائے۔ان کے بقول پاکستان کا بچہ بچہ چاہتا ہے کہ اس آمر کا احتساب کیا جائے اور آئینی شکنی کا مقدمہ چلایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کا عوامی مینڈیٹ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سابق صدر مشرف سے یہ پوچھا جائے کہ انہوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کیوں کی اور آئین کو کیوں توڑا۔ نواز شریف نے کہا کہ’پارلیمنٹ ہی ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے اس لیے اس سے کوئی بات خفیہ نہ رکھی جائے بلکہ اس ادارے کو خود مختار بنایا جائے اور تمام فیصلے اسی ادارے میں کیے جائیں‘۔ یاد رہے کہ بارہ اکتوبر سنہ 1999 کو جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تھا اور مسلم لیگ نون ہر سال بارہ اکتوبر کا دن یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے۔تاہم اس برس اس دن کو یوم دفاع جمہوریت کے طور پر منانے فیصلہ کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں بریفنگ: مسلم لیگ کا عدم اطمینان09 October, 2008 | پاکستان ان کیمرہ بریفنگ: سخت سکیورٹی08 October, 2008 | پاکستان افغان مصالحت، نواز شریف کا کردار؟07 October, 2008 | پاکستان اجلاس خفیہ نہ ہو: چودھری نثار10 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||