BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان مصالحت، نواز شریف کا کردار؟

نواز شریف
نواز شریف نے انیس سو ترانوے میں افغان مجاہدین کے درمیان کامیاب مصالحت کروائی تھی
افغانستان میں کرزئی حکومت اور اسکے خلاف برسر پیکار طالبان اور دیگر مسلح شدت پسندوں کے درمیان مصالحت کی کوششوں میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے کردار کے بارے میں ان کی جماعت نے تصدیق یا تردید کرنے سے تو انکار کیا ہے لیکن اسکے بارے میں ذرائع ابلاغ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

گزشتہ دو روز سے مختلف اخبارات نے اپنے ذرائع سے یہ خبریں شائع کر رہے ہیں کہ سعودی عرب کی ایماء پر میاں نواز شریف عسکریت پسندوں اور افغان حکومت کے درمیان مصالحت کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔

تاہم مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ان خبروں کی تصدیق یا تردید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میان نواز شریف منگل کی صبح ہی وطن واپس پہنچے ہیں اور ان سے رابطے کے بعد ہی وہ کوئی واضح بیان جاری کر سکیں گے۔

بعض امریکی اخبارات نے اختتام ہفتہ خبر دی تھی سعودی عرب کے شہر مکہ میں گلبدین حکمت یار سمیت بعض افغان عسکریت پسند کمانڈروں اور افغانستان، امریکہ اور برطانیہ کے نمائندوں کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں افغانستان میں جاری لڑائی کو روکنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی اور امریکی اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ چند روز قبل سعودی شہنشاہ عبداللہ کے شاہی محل میں منعقد کردہ ایک افطار ڈنر میں سابق طالبان وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل سمیت بعض دیگر اہم طالبان عہدیداروں، افغانستان کے جنوب میں فعال گروپ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کے نمائندہ خصوصی کے علاوہ میاں نواز شریف بھی موجود تھے۔

ہندوستان کے سفارتخانے پر بم حملہ ہوا تھا
کئی گروہ افغان حکومت اور غیر ملکیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں

صدیق الفاروق نے اس بارے بھی کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ بعض افغان عسکری کمانڈرز کی سعودی عرب میں موجودگی اور سعودی اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے وقت نواز شریف کی وہاں موجودگی محض اتفاق تھا یا کہ کوئی سوچا سمجھا منصوبہ۔

برطانیہ، امریکہ اور افغان حکومت نے اس قسم کی کسی ملاقات سے انکار کیا ہے اور تحریک طالبان کے ترجمان کا بھی کہنا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں۔

اس پس منظر میں پاکستانی میڈیا کی توجہ میاں نواز شریف پر مرکوز ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس سارے عمل میں خاصے سرگرم ہیں اور انیس سو ترانوے میں افغان مجاہدین کے درمیان کامیاب مصالحت کے حوالے سے ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

میاں نواز شریف کو افغانستان میں متحرب مختلف افغان گروپوں کے درمیان اعلان اسلام آباد کا خالق قرار دیا جاتا ہے جس کے تحت کابل میں جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔

رابرٹ گیٹس
امریکی وزیرِ دفاع نے بھی کہا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ کام کرنے پر تیار طالبان سے بات چیت کی جا سکتی ہے

پاکستان مسلم لیگ کے چئرمین راجہ ظفرالحق نے افغانستان میں تازہ مصالحتی عمل کے آغاز اور اس میں نواز شریف کے کردار کے بارے میں تو کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مصالحت کا عمل پاکستانی قیادت کی شمولیت کے بغیر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کو کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں ایسی شخصیات شامل نہ ہوں جنہیں فریقین کا اعتماد حاصل ہو۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک اہم لیڈر نے، جو پندرہ برس قبل افغان مجاہدین کے درمیان پاکستان کی مصالحتی کوششوں میں شامل رہے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے اگر کوئی شخصیت سود مند ہو سکتی ہے تو وہ میاں نواز شریف ہی ہیں۔

اس رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف کے بیشتر افغان عسکری کمانڈروں کے ساتھ خاصے بے تکلفانہ تعلقات رہے ہیں اور سعودی عرب میں جلا وطنی کے دوران بھی یہ روابط ذاتی حیثیت میں برقرار رہے ہیں۔

ان تعلقات کی وسعت کا اندازہ لگانے کے لیے اس رہنما نے بتایا کہ انیس سو ترانوے میں اعلان اسلام آباد میں سابق افغان صدر صبغت اللہ مجددی آخر وقت تک شامل ہونے سے انکار کرتے رہے۔ لیکن عین وقت پر میاں نواز شریف نے کابل میں موجود اس افغان بزرگ لیڈر کے لیے خصوصی طیارہ اور دو کروڑ روپے کا چیک بھجوایا جسکے بدلے سابق افغان صدر نے اعلان اسلام آباد پر دستخط کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

اس رہنما کا کہنا ہے پیپلز پارٹی کی جانب سے سابق وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کارگر ہو سکتے تھے لیکن وہ بیماری کے باعث اس عمل میں شریک ہونے کے قابل نہیں۔

بیت اللہ محسود فائل فوٹوالگ الگ طالبان
پاکستانی طالبان سے تنظیمی اظہارِ لاتعلقی
طالبانطالبان اور القاعدہ
کیا یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟
بڑھتےخودکش حملے
پاکستان میں افغانستان سے زیادہ اموات ہوئیں
کابل جرگہ: توقعات
طالبان کی عدم شرکت کے باوجود بعض حلقے پرامید
 حاجی عمرامریکی نقصان زیادہ
طالبان کے مطابق امریکی نقصان چھپاتے ہیں۔
ڈک چینیاسلام آباد پر دباؤ
ڈک چینی کا دورہ، پاکستان کی جھنجلاہٹ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد