BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 October, 2008, 22:45 GMT 03:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکیورٹی بریفنگ، دوبارہ شروع

سکیورٹی
اجلاس کے دوران اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتظامات سخت ہیں
قومی سلامتی کے امور پر ارکان پارلیمنٹ کی بریفنگ کے لیے بلائے جانے والے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس تین روز کے وقفے کے بعد سوموار کے روز سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔ یہ اجلاس جمعرات تک جاری رہنے کی توقع ہے جس میں قبائلی علاقوں کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں حکومتی پالیسی پر ارکان پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

ارکان پارلیمنٹ کے لیے قومی سلامتی سے متعلق امور پر اس بریفنگ کا اہتمام صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔

اجلاس کے پہلے مرحلے میں پاک فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹنٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کی تفصیل سے ارکان پارلیمنٹ کو آگاہ کیا تھا۔

ویڈیو فلمز اور سلائیڈز کے ذریعے دی جانے والی اس بریفنگ میں فوجی آپریشن اور مسلح شدت پسندوں کی کارروائیوں کے بارے میں ارکان کو آگاہ کیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس کے آغاز ہی میں سپیکر قومی اسمبلی نے تمام حاضرین سے رازداری کا حلاف لیا تھا لہذا اجلاس کی کارروائی کے بارے میں مستند حقائق تو دستیاب نہیں ہو سکے تاہم کہا جاتا ہے کہ اس بریفنگ کا سب سے نمایاں پہلو وہ مبینہ حقائق تھے جو شدت پسندوں کے خودکش حملوں کے پیچے کارفرما حکمت عملی اور عزائم سے متعلق ہیں۔

اس مفصل فوجی بریفنگ کے بارے میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قومی سلامتی کے امور کو محض فوجی آپریشن کی تفصیل تک محدود کر دینے پر احتجاج کرتے ہوئے اجلاس کے دوسرے دن سوال و جواب کے سیشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اسلام آباد
سخت سکیورٹی کے باوجود اجلاس کے دوران اسلام آباد میں بموں کی گونج سنائی دی

مسلم لیگ نواز اور حزب اخلاف کی دیگر جماعتوں کے مطالبے پر حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی پہلے سے طے شدہ کارروائی میں ترمیم کرتے ہوئے سوموار کے روز ارکان کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں حکومت کی پالیسی اور حکمت عملی پر بریفنگ کا انتظام کیا ہے۔

پالیسی معاملات پر اس جامع بریفنگ کے بعد ارکان پارلیمنٹ کو اس پر بحث کا موقع دیا جائے گا اور ملک کو درپیش سنگین داخلی مسائل پر انکی تجاویز طلب کی جائیں گی۔

جمعرات کے روز اس مشترکہ اجلاس کے اختتام کے موقع پر پارلیمنٹ کی جانب سے متفقہ قرارداد سامنے آنے کی توقع ہے جسکے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی خصوصی کمیٹی مستقبل میں اس قرارداد پر عملدرآمد کا جائزہ لے گی۔

ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ اس اجلاس میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف اور مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین بھی خصوصی دعوت پر شریک ہیں جبکہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کے رہنماؤں قاضی حسین احمد، عمران خان، محمود خان اچکزئی اور عطاللہ مینگل نے اجلاس میں شرکت کے لیے دی جانے والی دعوت کو مسترد کر دیا تھا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور پارلیمنٹ جانے والی تمام شاہراہوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد