’چودہ خودکش بمبار زیرِ حراست‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے امورِ داخلہ رحمان ملک نے دعوٰی کیا ہے کہ اس وقت چودہ خودکش بمبار سکیورٹی ایجنسیوں کی حراست میں ہیں۔ یہ بات انہوں نے سینچر کو لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے پاکستان پر حملے ہو رہے ہیں اور بقول ان کے پاکستانی فوج کے خلاف جنگ لڑنے والے بیالیس افغانیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے افغانی صدر حامد کرزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’سرحد کے اس پار آپ کی حکومت ہے اس میں بہتری لائیں اگر ہماری طرف سے دو طالبان چلے جاتے ہیں تو آپ آسمان سرپر اٹھا لیتے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے جو پالیسی اختیار کی ہے اس پر نکتہ چینی تو گئی تو تاہم اس پالیسی کی وجہ سے بہتری آئی ہے اور اس پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور یہ بات کچھ ملکوں کو برداشت نہیں ہو رہی۔ ان کے بقول جب وزیراعظم پاکستان امریکہ گئے تو ملاقات کے دوران امریکی صدر بش نے ان سے کہا کہ’ ڈو مور‘ جس پر پاکستانی وزیراعظم کا جواب تھا کہ’یو ڈو مور‘۔ رحمان ملک نے کہا دہشت گردوں کے خلاف اس وقت تک کارروائی جاری رہےگی جب تک آخری دہشت گرد ختم نہیں ہو جاتا۔مشیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے طلبہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اس لیے ایک طلبہ ٹاسک فورس بنائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت مدرسہ اتھارٹی قائم کر رہی ہے اور اس ضمن میں اکیس اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں مدارس کے لیے ایک نصاب ترتیب دیا جائے گا۔ ان کے بقول یہ نصاب اس طرح مرتب کیا جائےگا کہ کسی بھی مسلک سے زیادتی نہ ہو اور متفقہ نصاب پڑھایا جائے۔ | اسی بارے میں اورکزئی جرگہ حملہ، ہلاکتیں اکیاون11 October, 2008 | پاکستان بھکر میں خود کش حملہ، 20 ہلاک09 October, 2008 | پاکستان اسلام آباد، دیر میں پولیس پر حملے09 October, 2008 | پاکستان ’دہشتگردوں کا صفایا کرنا ہوگا‘07 October, 2008 | پاکستان چارسدہ: ولی باغ پر خودکش حملہ02 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||