سینتیس’طالبان‘ کی ہلاکت کادعٰوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج نے اورکزئی اور باجوڑ ایجنسی میں بارہ خودکش حملہ آوروں سمیت سینتیس شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان سے میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اورکزئی ایجنسی میں پاکستانی فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور اس کارروائی میں ستائیس شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے جن میں سے بارہ مبینہ خودکش حملہ آور تھے۔ میجر جنرل اطہر عباس کا یہ بھی کہنا تھا کہ باجوڑ میں چارمنگ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دس شدت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ چارمنگ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی ہے۔جس سے ان کے دو اہم مراکز تباہ ہوگئے ہیں۔ اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کے مطابق اتوار کو بھی تحصیل چارمنگ میں طالبان اور قبائلی لشکر کی جھڑپیں جاری رہی اور ان جھڑپوں میں دو قبائلی اور چار شدت پسند مارے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق جھڑپوں کا سلسلہ سنیچر کو مقامی طالبان کی جانب سے قبائلی لشکر پر حملے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ان کے بقول مقامی لشکر کو سکیورٹی فورسز کی مدد بھی حاصل ہے جو توپخانوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں اہلکاروں کی رہائی، جھڑپیں جاری11 October, 2008 | پاکستان ’قبائلی لشکر کشی حوصلہ افزاء‘11 October, 2008 | پاکستان وزیرستان: امریکی حملہ، چار ہلاک11 October, 2008 | پاکستان ’قبائلی علاقوں میں عام معافی دیں‘11 October, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||