BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 October, 2008, 19:08 GMT 00:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان مخالف پالیسی کو درپیش مشکلات

قبائلی لشکر
حکومت کی شدت پسندی کے خلاف پالیسی میں کامیابی نظر نہیں آ رہی
اپر اورکزئی ایجسنی میں حکومت یافتہ قبائلی جرگہ پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے اور باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے خلاف مقامی لشکر کے چار عمائدین کو گلا کاٹ کر مارنا پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم مخلوط حکومت اور پاکستانی فوج کی جانب سے شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اپنائی گئی حکمت عملی کے لیے خطرے کی ایک گھنٹی ہیں۔

پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی حمایت سے قبائلی علاقے اور صوبہ سرحد میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے وہی نسخہ استعمال کرنے کی کوشش کی جس کو جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے اپنی دور حکومت میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں آزمایا تھا۔نتیجہ یہ نکلا کہ تین سو سے زائد قبائلی مشران کو ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نشانہ بنایا گیا اور جو مشران زندہ بچ گئے ان کا بھی جھکاؤ طالبان کی طرف رہا۔ طالبان جنوبی وزیرستان سے پھیل کر ساتوں قبائلی ایجنسیوں اور صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقے میں مضبوط ہوگئے۔

اس حکمت عملی کی کامیابی کی امید نومنتخب حکومت کو اس وقت ہوئی جب صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں مقامی لوگوں نے وہاں پر مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف بندوق اٹھائی اور انہیں وہاں سے نکال باہر کیا۔اس کے بعد یہی تجربہ ضلع دیر میں بھی قدرے کامیاب رہا۔ پھر حکومت نے پشاور کے مضافات اور چارسدہ کے علاقے شبقدر میں بھی یہی حکمت عملی اپنائی۔

دیکھا جائے تو بندوبستی علاقوں میں یہ حکمت عملی ایک حد تک کامیاب رہی ہے مگر قبائلی علاقوں میں جہاں طالبان کا نیٹ ورک اور اثر و نفوذ زیادہ ہے اس حکمت عملی سے خاطر خواہ نتیجہ نکالنے میں قبائل اور حکومت کو زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔

اس سال مارچ میں ہی حکومت اور قبائلی مشران کو درہ آدم خیل میں جرگے پر ہونے والے ایک مبینہ خود کش حملے کی شکل میں سخت دھچکا پہنچا۔ باجوڑ میں بھی فوج سالارئی، ماموند اور دیگر اقوام کی مدد پر تکیہ کیے بیٹھی ہے۔ مگر لشکر کی تشکیل کے لیے سرگرم افراد کی سرکٹی لاشیں ان قبائل کے عزم کو متزلزل کرسکتی ہیں۔

طالبان کے خلاف قبائلی لشکر بنانے کی حکمت عملی سے اس لیے زیادہ خطرات جُڑے ہوئے ہیں کیونکہ ایک تو قبائل کی جانب سے علاقے سے طالبان کا صفایا کرنے کا یہ عمل’ خانہ جنگی‘ میں تبدیل ہوسکتا ہے تو دوسری طرف مقامی لوگوں کے پاس وہ اسلحہ، تربیت، جذبہ اور کیمونیکیشن کا نظام موجود نہیں ہے کہ وہ طالبان کی منظم قوت کا راستہ روک سکے۔

ایک جرگہ مشر کا کہنا ہے کہ’ جب امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کی حمایت سے پاکستان کے جیٹ طیاروں، گن شپ ہیلی کاپٹروں، توپخانوں، پیشہ ور فوج، کمانڈوز سے طالبان کا صفایا نہیں کیا جا سکا، ہم قبائل اپنی پرانی بندوقوں سے ان کا کیسے مقابلہ کر پائیں گے۔‘

اسی بارے میں
میریئٹ حملے میں 54 ہلاک
09 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد