BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہلکاروں کی رہائی، جھڑپیں جاری

مقامی لشکر
چار منگ میں طالبان اور مقامی لشکر کی جھڑپیں جاری ہیں
صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے دو ماہ قبل اغواء ہونے والے کوہاٹ سرنگ کے انچارج اور سکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکاروں کو آزاد کر دیا ہے۔

دوسری طرف باجوڑ ایجنسی میں بھی مقامی لشکر اور مسلح طالبان کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں جبکہ ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے اور جوابی فائرنگ میں دو طالبان ہلاک اور چار اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ کوہاٹ ٹنل کےانچارج شعیب خٹک، ان کے ڈرائیور اور سکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکاروں کو سنیچر کی صبح قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے طالبان نے مبینہ طور پر آزاد کیا۔

ان افراد میں وہ تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جنہیں کچھ عرصے قبل اغواء کیا تھا اور ان کے اہل خانہ نے پشاور میں زبردست احتجاج بھی کیا تھا۔حکام نے یہ نہیں بتایا ہے کہ ان اہلکاروں کو کیوں آزاد کیا گیا ہے۔

قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں بھی اطلاعات کے مطابق تحصیل چار منگ میں مسلح طالبان اور مقامی لشکر کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں تاہم ہلاکتوں کے بارے میں کسی قسم کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہناہے کہ سنیچر کو طالبان نے مقامی لشکر پر حملہ کیا جس کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کے بقول مقامی لشکر کو سکیورٹی فورسز کی مدد حاصل ہے جو توپخانوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے طالبان کے مشتہ مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

سنیچر کو طالبان نے مقامی لشکر پر حملہ کیا جس کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مقامی لشکر کو سکیورٹی فورسز کی مدد حاصل ہے جو توپخانوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے طالبان کے مشتہ مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس علاقے میں جمعہ کو مقامی لوگوں کو قبائلی لشکر کے چار افراد کی سربُریدہ لاشیں ملی تھیں۔ان افراد کو طالبان کے خلاف لشکر تشکیل دیے جانے کے حوالے سے ہونے والے ایک جرگے کے بعد نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا۔ ان کے تین ساتھی اب بھی لاپتہ ہیں۔اس واقعہ کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی ہے۔

ادھر ضلع سوات میں سنیچر کی صبح سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو تحصیل کبل کے دمغار کے علاقے میں سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔حکام کے مطابق اس حملے میں تین پولیس اہلکار اور ایک فوجی زخمی ہوگیا ہے۔

اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی جو شام تک جاری رہیں۔ طالبان ترجمان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہےکہ جھڑپ میں ان کے دو ساتھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

آخری اطلاعات کے مطابق امن کمیٹی کی کوششوں سے فریقین کے درمیان جاری جھڑپ رک گئی ہے اور سکیورٹی فورسز نے علاقے سے نکل جانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

زخمیاورکزئی خود کش حملہ
اورکزئی دھماکے کے زخمیوں کی تصاویر
ملک عبدالرحمن قبائلی جرگے پر حملہ
’ذرا بھی شبہ ہوتا تو تلاشی کا انتظام کر لیتے‘
طالبان ’تصویر کادوسرا رخ ‘
طالبان کی پارلیمان کو بریفنگ کا حامی کون
 لشکرخطرے کی گھنٹی
طالبان مخالف لشکر کو درپیش مشکلات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد