BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 October, 2008, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شبہ ہوتا تو تلاشی کا انتظام کر لیتے‘

ملک عبدالرحمن
ہمارے علاقے سے تو اس وقت طالبان نکل چکے ہیں:ملک عبدالرحمان
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں جمعہ کو ایک قبائلی جرگے پر ہونے والے حملے کی نوعیت، جرگے کے مقصد اور اس میں شامل قبیلے کے حوالے سے تفصیلات واقعے کے قریباً چوبیس گھنٹے بعد ایک حد تک واضح ہونے لگی ہیں۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اب بھی دھماکے کے قریباً پچیس زخمی زیرِ علاج ہیں جن میں خانکئی علی خیل قبیلے کے ایک زخمی ملک عبدالرحمن بھی شامل ہیں۔

بی بی سی کو واقعہ کی مکمل تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپر اورکزئی ایجنسی کے تین قبیلے خانکئی، تیراہ اور زرگرئی علی خیل کے تقریباً دو ہزار سے زائد افراد چار مقامی طالبان پر علاقے میں بدنامی پھیلانے کے الزام کے تحت جرمانہ عائد کرنے کی غرض سے جرگے میں مصروف تھے۔

انہوں نے علاقے میں طالبان کی مبینہ سرگرمیوں کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے علاقے میں غیر مقامی طالبان، مقامی طالبان کے ساتھ مختلف مراکز میں رہائش پذیر تھے اور انہوں نے بعض حکومتی عمارتوں پر بھی قبضہ کیا ہوا تھا۔

ملک عبدالرحمان کے مطابق پولٹیکل ایجنٹ نے قبائلی مشران کو بلا کر دھمکی دی کہ وہ غیر مقامی طالبان کو علاقے سے نکال باہر کریں جبکہ مقامی طالبان کو قبائلی رسم و رواج کے تحت اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے سے روک دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پولٹیکل ایجنٹ نے دھمکی دی کہ اگر انہوں نے دس دن کے اندر ایسا نہیں کیا تو پھر سکیورٹی فورسز علاقے پر فضائی حملے شروع کر دیں گی‘۔

ہم نے سوچا تھا۔۔
 درہ آدم خیل ایک ایسی جگہ پرواقع ہے جس کے قریب سے انڈس ہائے وے گزرتا ہے اور باہر سے کوئی بھی نامعلوم شخص وہاں داخل ہوسکتا ہے لیکن اورکزئی ایجنسی ایک دور دراز علاقہ ہے اور ہمارا علاقہ تو بالکل ہی الگ تھلگ ہے۔ہمیں اگر تھوڑا سا بھی شائبہ ہوتا تو کوئی کمیٹی بنالیتے یا تلاشی لینے کا کوئی انتظام کرلیتے
ملک عبدالرحمن

جس پر ملک عبدالرحمان کے بقول’ہم نے لشکر تشکیل دے کر طالبان کے بعض مشتبہ ٹھکانوں کو نذرِ آتش کیا جبکہ غیر مقامی طالبان کو علاقے سے نکال باہر کیا۔ جس کے بعد چار مقامی طالبان کے خلاف جرمانہ عائد کرنے کے حوالے سے جمعہ کے روز ایک جرگہ بلایا گیا‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جرگے میں جب چار طالبان کو دو دو لاکھ روپےجرمانے کی سزا سنائی گئی تو انہوں نے فیصلہ بخوشی قبول تو کیا البتہ نہوں نے کہا کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔اس وقت تقریباً شام کے چار بج رہے تھے کہ تقریباً بیس یا پچیس گز دور کھڑی ایک پک اپ گاڑی میں دھماکہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ گاڑی جرگے کے اندر داخل نہیں ہوئی بلکہ وہ پہلے سے ہی وہاں کھڑی تھی اب یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ اس میں بارود بھر کر ریموٹ کنٹرول بم سے اڑایا گیا یا پھر اس میں کوئی مبینہ خودکش بمبار سوار تھا۔

اس سوال پر کہ اسی برس کے اوائل میں درہ آدم خیل میں بھی جرگے پر خودکش حملے کے واقعے کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا انہوں نے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے تھے تو انہوں نے کہا ’نہیں ہم نے تو سوچا تھا کہ درہ آدم خیل ایک ایسی جگہ پرواقع ہے جس کے قریب سے انڈس ہائے وے گزرتا ہے اور باہر سے کوئی بھی نامعلوم شخص وہاں داخل ہوسکتا ہے لیکن اورکزئی ایجنسی ایک دور دراز علاقہ ہے اور ہمارا علاقہ تو بالکل ہی الگ تھلگ ہے۔ہمیں اگر تھوڑا سا بھی شبہ ہوتا تو کوئی کمیٹی بنا لیتے یا تلاشی لینے کا کوئی انتظام کر لیتے‘۔

اس سوال پر کیا کہ حالیہ حملے کے بعد قبائل طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے علاقے سے تو اس وقت طالبان نکل چکے ہیں، اب جب صحت یاب ہونگے اور صورتحال واضح ہو جائے گی تب اس حوالے سے مشران مل کر کوئی حکمت عملی وضع کریں گے‘۔

زخمیاورکزئی خود کش حملہ
اورکزئی دھماکے کے زخمیوں کی تصاویر
 لشکرخطرے کی گھنٹی
طالبان مخالف لشکر کو درپیش مشکلات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد