نیٹو کو تیل کی فراہمی کا انتقام؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں پولیس محاصرے کے دوران بم دھماکے کے بعد مکان کے ملبے میں ہلاک ہونے والے شوکت آفریدی کا تعلق صوبہ سرحد کے علاقے جمرود سے ہے اور ان کے بھائی الحاج تاج آفریدی افغانستان میں پیٹرول کی ترسیل کرتے رہے ہیں۔ شوکت آفریدی کو کراچی کے علاقے بوٹ بیسن سے کار میں سوار تین مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔ سٹیزن پولیس لیازون کمیٹی کے مطابق ملزمان نے شوکت آفریدی کی رہائی کے لیے پانچ ملین ڈالر تاوان طلب کیا تھا اور آخر میں یہ مانگ کم ہوکر ستر لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ تاون کے لیے اکثر ٹیلیفون پشاور اور کرم ایجنسی سے کیے گئے تھے۔ الحاج تاج آفریدی نے بی بی سی سے مختصر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بھائی کو نو مئی کو اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد تاوان طلب کیا گیا تھا۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا انہیں جہادی تنظیموں نے اغوا کیا تھا تو ان کا کہنا تھا ’ہاں مگر انہوں نے پیسے مانگے تھے‘۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شوکت آفریدی کو نیٹو افواج کو تیل دینے کی وجہ سے اغوا کیا گیا تو تاج آفریدی نے اس پر بات کرنے سے انکار کیا۔ آئل ٹینکرز مالکان کی تنظیم کے سربراہ یوسف شہوانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ افغانستان کو تیل فراہم کرنے کی وجہ سے ہی تاج آفریدی کے بھائی کو اغوا کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے نام پر بہت سے لوگ ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شخصیت کی ثالثی میں شوکت آفریدی کو جمعہ کی شام کو رہا ہونا تھا، مگر پولیس چھاپے کے لیے پہنچی تو بمبار نے دپماکہ کر دیا۔ یاد رہے کہ کراچی کے آئل ڈپو پر طالبان کے نام سے پرچیاں بانٹی گئی تھیں، جن میں ٹرانسپورٹروں کو متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ نیٹو افواج کو تیل کی فراہمی معطل کردیں۔ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد نے حملہ کرکے کراچی بندرگاہ سے افغانستان جانے والی اتحادی فوج کی بکتر بند گاڑیاں بھی نذر آتش کردیں تھیں۔ | اسی بارے میں خودکش حملے کی دھمکی پر ہائی الرٹ25 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ، درجن بھرگرفتاریاں25 September, 2008 | پاکستان ’اسلام آباد: مزید حملوں کا خطرہ ہے‘24 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ چھاؤنی: خود کش دھماکہ24 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||