’خودمختاری کا دفاع کیا جائے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پارلیمان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ قرارداد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پارلیمان کے بند کمرے کے اجلاس میں پیش کی جس کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ پاکستان کے پارلیمان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں حکومتی پالیسی کے متعلق متفقہ قرار داد منظور کرنے کے لیے سولہ رکنی اعلٰی سطح کی کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز دیر تک جاری رہا۔
چودہ نکاتی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے بارے میں حکمت عملی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پالیسی کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہو سکے اور خطے میں استحکام لانے کے لیے آزاد خارجہ پالیسی تیار کی جائے۔ مزید کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندی اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ قرارد میں کہا گیا ہے کہ قوم دہشت گردی کی تمام اقسام کے خلاف یکجا ہے جس میں فرقہ ورانہ نفرت اور تشدد بھی شامل ہے۔ ’قوم پاکستان کی خودمختاری کے دفاع اور بیرونی جارحیت کے خلاف یکجا ہے اور حکومت اس ضمن میں موثر اقدام کرے۔‘ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے کسی اور ملک میں دہشت گردی نہیں کرنے دی جائے گی اور غیر ملکی جنگجوؤں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ قراداد میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان میں جاری تصادم کے حل کے لیے بات چیت پر زور دیا جائے اور ان تمام لوگوں سے بات چیت کی جائے جو پاکستان کے آئین اور قانون پاسداری کرتے ہیں۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شورش زدہ علاقے صوبہ سرحد (پختونخواہ) بالخصوص قبائلی علاقے میں کوشش کی جائے کہ ترقی کے کام کیے جائیں تاکہ وہاں امن قائم کیا جا سکے اور وہاں پر لوگوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ وہ پاکستان کے باقی علاقوں کی سطح تک پہنچ سکیں۔ بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی جائے اور ان کی شکایات اور وسائل کے مسئلے کو حل کرنے کی لیے کوتیز کی جائیں۔ اس قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت امن و امان قائم کرے گی اور جب ضرورت پڑے گی اس وقت حکومت اقدام کرے گی تاہم وہ پوری کوشش کرے گی کہ عام شہریوں کی جانیں نہ جائیں۔ وفاق کو انیس سو تہتر کے آئین کے تحت مضبوط کیا جائے۔ حکومت شورش زدہ علاقوں میں امن و امان قائم کرے گی اور روایات اور جرگے کے ذریعے اعتماد سازی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ فوج کی جگہ سویلین سکیورٹی فورسز تعینات کی جائیں گی اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے مفادات کو مشرقی اور مغربی ہمسایوں کے ساتھ امن اور تجارت بڑھا کر فروغ دے گا۔ دیگر اقدامات میں اندرونی سکیورٹی کو مستحکم کرنے کے لیے تشدد کے متاثرین کو معاوضہ دینا، بے گھر ہوئے افراد کو جلد از جلد آباد کرنا، دہشت گردی کے پھیلاؤ کو ملک کے دیگر علاقوں میں پھیلنے سے روکنا، اور میڈیا اور مذہبی رہنماؤں کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف قوم کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہیں۔ اس قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپیشل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کہ اس قرارداد کو عملی جامعہ پہنانے کی نگرانی کرے گی۔ | اسی بارے میں ان کیمرہ بریفنگ: سخت سکیورٹی08 October, 2008 | پاکستان بریفنگ: مسلم لیگ کا عدم اطمینان09 October, 2008 | پاکستان پارلیمان، فوجی پالیسیوں پر تنقید09 October, 2008 | پاکستان ہمیں بھی بریفنگ دینے دیں:طالبان 10 October, 2008 | پاکستان ’تصویر کادوسرا رخ ‘11 October, 2008 | پاکستان سکیورٹی بریفنگ، ن لیگ مایوس 15 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||