BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 November, 2008, 10:07 GMT 15:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سترہ رکنی مشترکہ کمیٹی کی تشکیل

کمیٹی کی تشکیل دینے کی تجویز قرار داد میں شامل تھی

قومی سلامتی سے متعلق پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کی تجاویز پر عمل درآمد کے لئے ارکان پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ سترہ رکنی اس کمیٹی میں حزب اختلاف اور اقتدار کی تمام جماعتوں کے اہم رہنما شامل ہیں۔ یہ کمیٹی اگلے ماہ کام شروع کرے گی۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کی مشترکہ کمیٹی نے بائیس اکتوبر کو دو ہفتے سے زائد جاری رہنے والے پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس میں قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں جاری فوجی آپریشن پر تفصیل سے بحث کرنے کے بعد چودہ نکاتی قرارداد کی منظوری دی تھی۔ اس قرار داد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی پالیسی پر از سر نو غور کرنے، سوات اور دیگر علاقوں سے فوج کی واپسی اور شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے جیسی سفارشات شام تھیں۔

یہ قراردار وزیراعظم نے پیش کی تھی اور صدر مملکت نے بھی ارکان کو یقین دلایا تھا کہ اس قرارداد پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

اس قرارداد کا آخری نکتہ ان سفارشات پر عمل کے لئے ارکان پارلیمنٹ کی ایک اعلٰی اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل تھا۔

سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے ایک پریس کانفرنس میں اس کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعلی اختیاراتی کمیٹی قومی سلامتی سے متعلق تمام اہم امور کا جائزہ لینے اور اس بارے میں ارکان پارلیمنٹ کی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی
 یہ کمیٹی کسی بھی حکومتی شخصیت کو بریفنگ کے لئے طلب کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کمیٹی متاثرہ علاقوں میں جا کر لوگوں سے بات کرنا چاہے تو اس کا اختیار بھی کمیٹی کو حاصل ہے۔
سپیکر فہمیدہ مرزا

سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے ایک پریس کانفرنس میں اس کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعلی اختیاراتی کمیٹی قومی سلامتی سے متعلق تمام اہم امور کا جائزہ لینے اور اس بارے میں ارکان پارلیمنٹ کی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

سپیکر نے کہا ’پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کی جانے والی قرار داد کے نکات کی روشنی میں یہ کمیٹی قومی سلامتی سے متعلق امور کے بارے میں حکومت کی نہ صرف رہنمائی کرے گی بلکہ قرادار میں منظور کردہ سفارشات پر عمل درآمد کی رفتار پر بھی نظر رکھےگی۔‘

فہمیدہ مرزا نے کہا کہ یہ کمیٹی اگلے تیس روز کے دوران اپنے قواعد تشکیل دینے کے بعد کام کرنا شروع کر دے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما اور بین الصوبائی رابطوں کے وزیر قواعد کی تیاری کے دوران اس کمیٹی کی صدارت کریں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ قراداد کی منظوری کے بعد سے پاکستانی حدود میں امریکی میزائل حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن پارلیمنٹ بھی بے بس نظر آتی ہے، سپیکر نے کہا کہ یہ اب کمیٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اور پارلیمنٹ کے فیصلوں پر عمل کروائے۔

’یہ کمیٹی کتنی مؤثر ہو گی اس کا فیصلہ کمیٹی کو خود کرنا ہے۔‘

سپیکر نے کہا کہ یہ کمیٹی کسی بھی حکومتی شخصیت کو بریفنگ کے لئے طلب کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کمیٹی متاثرہ علاقوں میں جا کر لوگوں سے بات کرنا چاہے تو اس کا اختیار بھی کمیٹی کو حاصل ہے۔

تاہم فہمیدہ مرزا نے تجویز پیش کی کہ کمیٹی میں چونکہ بہت حساس اور متنازعہ معاملات زیربحث آئیں گی، اس لئے اس کمیٹی کو اپنے اجلاس بندے کمرے میں منعقد کرنے چاہئیں۔

اس کمیٹی میں پارلیمنٹ میں جن ارکان کو شامل کیا گیا ہے ان کے نام یہ ہیں۔ رضا ربانی، شیری رحٰمن، اسفندیار ولی خان، اسرار اللہ زہری، شاہد حسن بگٹی، بابر اعوان، اسحٰق ڈار، منیر اورکزئی، مولانا سمیع الحق، سردار مہتاب عباسی، حیدر عباس رضوی، عبدلرزاق تھہیم، آفتاب شیر پاؤ، وسیم سجاد، مولانا فضل الرحٰمن، پروفیسر خورشید احمد اور عبدالرحیم مندوخیل۔

طالبانقرار داد اہم کیوں؟
قومی اتفاق رائے ورنہ امریکی پالیسیاں
اسی بارے میں
سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب
01 November, 2008 | پاکستان
مشرف، چارج شیٹ کی تیاریاں
11 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد