شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا |
قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ سے پاس ہونے والی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد کے سلسلے میں کمیٹی کی تشکیل کے لیے پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس پیر کو طلب کر لیا ہے۔ پارلیمانی امور کے سیکرٹری اظہار امروہی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور اُسی روز اس کمیٹی کے سربراہ کا بھی انتخاب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا سربراہ قومی اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی جماعت کا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں کے علاوہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان سینیٹ اور قومی اسمبلی بھی شریک ہوں گے۔ واضح رہے کہ ملک میں امن وامان اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے نمٹنے کے لیے آٹھ اکتوبر کو پارلیمنٹ کابند کمرے کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ارکان پارلیمنٹ کو شدت پسندوں کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے ارکان پارلیمنٹ کو ان کیمرہ بریفنگ دی تھی۔  |  اُدھر ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے سینیٹ کا اجلاس بُلانے کے لیے درخواست دی ہے جس پر سینیٹ کا اجلاس دس نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا گیا ہے۔  |
اس کے علاوہ حکومت نے بھی دہشت گردی مخالف جنگ میں اپنی پالیسی بیان کی تھی۔ اجلاس میں چودہ نکاتی قراردار متفقہ طور پر منظور کر لی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت شدت پسندوں کے ساتھ فوری مذاکرات کرے، فوج کو قبائلی علاقوں سے امن قائم ہونے کے بعد بتدریج واپس بُلایا جائے، پاکستانی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے غیرملکی شدت پسندوں کو فوری طور وطن سے نکالا جائے اور امریکہ سمیت کسی بھی غیرملکی فوج کو پاکستانی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شورش زدہ علاقے صوبہ سرحد بالخصوص قبائلی علاقے میں کوشش کی جائے کہ ترقی کے کام کیے جائیں، تاکہ وہاں امن قائم کیا جا سکے اور وہاں پر لوگوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ وہ پاکستان کے باقی علاقوں کی سطح تک پہنچ سکیں۔ اس متفقہ قرارداد کے پاس ہونے کے باوجود بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملے جاری ہیں۔ اُدھر ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے سینیٹ کا اجلاس بُلانے کے لیے درخواست دی ہے جس پر سینیٹ کا اجلاس دس نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا گیا ہے۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ نون اور سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف پہلی بار سینیٹ کا اجلاس بُلانے پر اکٹھی ہوئی ہیں، اس کے علاوہ دیگر جماعتوں میں متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی شامل ہے۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہے اور حزب اختلاف کے ساتھ ملکر سینیٹ کا اجلاس بُلانے پر حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اظہار امروہی کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے سینیٹ کا اجلاس بُلانے کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اس اجلاس کے دوران ملک کی امن و امان اور اقتصادی صورتحال، قومی اثاثوں کی نجکاری اور دوسرے اہم امور پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے اجلاس میں قورم پورا کرنے کی ذمہ داری حزب اختلاف پرہوگی۔ |