BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 November, 2008, 09:39 GMT 14:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب

سپیکر فہمیدا مرزا
قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا
قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ سے پاس ہونے والی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد کے سلسلے میں کمیٹی کی تشکیل کے لیے پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس پیر کو طلب کر لیا ہے۔

پارلیمانی امور کے سیکرٹری اظہار امروہی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور اُسی روز اس کمیٹی کے سربراہ کا بھی انتخاب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا سربراہ قومی اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی جماعت کا ہی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں کے علاوہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان سینیٹ اور قومی اسمبلی بھی شریک ہوں گے۔

واضح رہے کہ ملک میں امن وامان اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے نمٹنے کے لیے آٹھ اکتوبر کو پارلیمنٹ کابند کمرے کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ارکان پارلیمنٹ کو شدت پسندوں کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے ارکان پارلیمنٹ کو ان کیمرہ بریفنگ دی تھی۔

 اُدھر ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے سینیٹ کا اجلاس بُلانے کے لیے درخواست دی ہے جس پر سینیٹ کا اجلاس دس نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت نے بھی دہشت گردی مخالف جنگ میں اپنی پالیسی بیان کی تھی۔ اجلاس میں چودہ نکاتی قراردار متفقہ طور پر منظور کر لی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت شدت پسندوں کے ساتھ فوری مذاکرات کرے، فوج کو قبائلی علاقوں سے امن قائم ہونے کے بعد بتدریج واپس بُلایا جائے، پاکستانی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے غیرملکی شدت پسندوں کو فوری طور وطن سے نکالا جائے اور امریکہ سمیت کسی بھی غیرملکی فوج کو پاکستانی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شورش زدہ علاقے صوبہ سرحد بالخصوص قبائلی علاقے میں کوشش کی جائے کہ ترقی کے کام کیے جائیں، تاکہ وہاں امن قائم کیا جا سکے اور وہاں پر لوگوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ وہ پاکستان کے باقی علاقوں کی سطح تک پہنچ سکیں۔ اس متفقہ قرارداد کے پاس ہونے کے باوجود بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملے جاری ہیں۔

اُدھر ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے سینیٹ کا اجلاس بُلانے کے لیے درخواست دی ہے جس پر سینیٹ کا اجلاس دس نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا گیا ہے۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ نون اور سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف پہلی بار سینیٹ کا اجلاس بُلانے پر اکٹھی ہوئی ہیں، اس کے علاوہ دیگر جماعتوں میں متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی شامل ہے۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہے اور حزب اختلاف کے ساتھ ملکر سینیٹ کا اجلاس بُلانے پر حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اظہار امروہی کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے سینیٹ کا اجلاس بُلانے کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اس اجلاس کے دوران ملک کی امن و امان اور اقتصادی صورتحال، قومی اثاثوں کی نجکاری اور دوسرے اہم امور پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے اجلاس میں قورم پورا کرنے کی ذمہ داری حزب اختلاف پرہوگی۔

 لشکرخطرے کی گھنٹی
طالبان مخالف لشکر کو درپیش مشکلات
طالبان ’تصویر کادوسرا رخ ‘
طالبان کی پارلیمان کو بریفنگ کا حامی کون
کمانڈر سے انٹرویو
جلال آباد میں امریکی کمانڈر سے گفتگو
 خودکش حملے کے بعد(فائل فوٹو)’خودکش حملےحرام‘
بعض حلقوں کی نظر میں تاخیر سے اٹھایا گیا قدم
ڈرون کے حملے زیادہ
امریکہ نےقبائلی علاقوں میں حکمت عملی بدلی ہے
ڈما ڈولاجیت کی کلید
موجودہ آپریشن: باجوڑ میں کامیابی اہم کیوں؟
فرینک والٹر شٹائن مائر محض چند روز میں
پاکستان کو چند روز میں اربوں ڈالر درکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد