آئی ایم ایف قرض، جلد از جلد درکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے کہا ہے کہ پاکستان کو محض چند روز میں اربوں ڈالر کے غیر ملکی قرض درکار ہیں۔ پاکستان میں سینئر حکام سے ملاقاتوں کے بعد انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے قرض لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ مسٹر شٹائن مائر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ قرض مسلسل شدید ہوتے بحران ہونے کے لیے درکار ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو استحکام دینے کے لیے آئندہ چوبیس ماہ میں پندرہ ارب ڈالر سے زائد کے قرضے درکار ہوں گے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ پاکستان کو مسلسل مالی مدد اور زراعت، صنعت اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری حاصل ہو۔ اس سلسلے میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر شٹائن مائر نے کہا ہے کہ ’مجھے امید ہے کہ اس سلسلے میں (آئی ایم ایف کا) فیصلہ جلد ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ معاملہ چھ مہینے یا چھ ہفتے کا نہیں، چھ دن کا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اس سلسے میں آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستان کی مدد کرے گا۔ | اسی بارے میں ورلڈ بینک نے قرضہ روک لیا27 October, 2008 | پاکستان سرمایہ داروں کو چار ارب روپےمعاف 23 November, 2006 | پاکستان اٹلی نے نو کروڑ ڈالرمعاف کیے25 March, 2006 | پاکستان بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے: آئی ایم ایف11 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||