BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 October, 2008, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی ایم ایف قرض، جلد از جلد درکار
فرینک والٹر شٹائن مائر اور شاہ محمود قریشی
پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے قرض لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے
جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے کہا ہے کہ پاکستان کو محض چند روز میں اربوں ڈالر کے غیر ملکی قرض درکار ہیں۔

پاکستان میں سینئر حکام سے ملاقاتوں کے بعد انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے قرض لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

مسٹر شٹائن مائر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ قرض مسلسل شدید ہوتے بحران ہونے کے لیے درکار ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو استحکام دینے کے لیے آئندہ چوبیس ماہ میں پندرہ ارب ڈالر سے زائد کے قرضے درکار ہوں گے۔

ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ پاکستان کو مسلسل مالی مدد اور زراعت، صنعت اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری حاصل ہو۔

اس سلسلے میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر شٹائن مائر نے کہا ہے کہ ’مجھے امید ہے کہ اس سلسلے میں (آئی ایم ایف کا) فیصلہ جلد ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ معاملہ چھ مہینے یا چھ ہفتے کا نہیں، چھ دن کا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اس سلسے میں آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستان کی مدد کرے گا۔

اسی بارے میں
ورلڈ بینک نے قرضہ روک لیا
27 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد