ورلڈ بینک نے قرضہ روک لیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بنک نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیےدیئے جانے والے تیس کروڑ ڈالر قرض کی ادائیگی روک لی ہے اور قرض پر چلنے والے اس پروگرام کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ایک افسر نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے پاکستان کےلیے منظور کردہ اس پروگرام پر اعتراض کر رکھا تھا کیونکہ آئی ایم ایف کے خیال میں ورلڈ بنک کو اس نوعیت کا قرض کسی بھی ملک کو جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے عالمی بنک کے اس غیر متوقع اقدام سے مشیر خزانہ شوکت ترین کی پاکستان کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے جاری کردہ ’پلان بی‘ کو دھچکا پہنچےگا جس کے تحت مشیر خزانہ نے آسان شرائط پر قرض دینے والے غیرملکی امدادی اداروں کے ذریعے چار ارب ڈالر اگلے تیس دن میں اکٹھے کرنے کا پروگرام تیار کیا تھا۔ تاہم پاکستانی افسر کا کہنا تھا کہ انہیں توقع تھی کہ پاکستان کے معاشی حالات کے پیش نظر آئی ایم ایف اس پروگرام کی مخالفت نہیں کرے گا۔ یہ تیس کروڑ ڈالر وزارت خزانہ کی ان توقعات کی فہرست ’وش لسٹ‘ میں شامل تھے جس کے تحت آئندہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کو ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر عالمی بنک سے ملنے کی توقع تھی۔ قرض کے اجرا کو روکنے کا اعلان کرتے ہوئے عالمی بنک کی ویب سائیٹ پر جاری ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے اس رقم کا مقصد پاکستان کی معیشت کو استحکام دلانا اور اسے برقرار رکھنا تھا۔ ان تیس کروڑ ڈالر کی کمی سے مشیر خزانہ کے ’پلان سی‘ کو زیرعمل لانے کے امکانات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جس کے تحت پاکستان بلآخر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یا آئی ایم ایف سے قرض کے لیے رجوع کرے گا۔ شوکت ترین نے گزشتہ ہفتے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض کا حصول اس کی سخت شرائط کے باعث ان کی آخری ترجیح ہو گا۔ تاہم ان کی پہلی ترجیح دوست ممالک سے امداد اور قرص کا حصول ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے کیونکہ چین، سعودی عرب اور ’فرینڈز آف پاکستان‘ نامی گروپ سے پاکستان کو براہ راست مالی امداد کی توقع پوری نہیں ہوئیں۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا یہ دوست ممالک پاکستان کی مدد ضرور کریں گے لیکن اس میں وقت لگ سکتا ہے اور پاکستان کے پاس وقت کی کمی ہے۔ |
اسی بارے میں کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی17 October, 2008 | پاکستان کے ایس ای: حکومتی یقین دہانی15 October, 2008 | پاکستان زرِمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی25 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||