قیمتوں میں اضافہ، زرعی معیشت پر اثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کی جانب سے ڈیزل اور مٹی کے تیل کے نرخوں میں حالیہ اضافے سے زرعی معیشت اور غریب اور متوسط طبقے پر بوجھ کے علاوہ مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ سوموار کی رات گئے جاری کردہ ایک اعلامیے میں حکومت نے پٹرول کی قیمت میں پانچ روپے کمی جبکہ ڈیزل اور مٹی کے تیل کے نرخوں میں ساڑھے تین روپے اضافے کا اعلان کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں استعمال ہونے والے ڈیزل اور غریب عوام کا چولہا جلانے والے مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر زرعی معیشت اور اس سے متعلقہ ملکی آبادی کے ایک بہت بڑے طبقے پر ہو گا۔ جبکہ پٹرول کی قیمت میں کمی کا فائدہ دس فیصد سے بھی کم لوگوں کو ہو گا۔ ملک میں استعمال ہونے والے ایندھن کا نوے فیصد ڈیزل اور مٹی کے تیل پر مشتمل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق زرعی زمین میں ہل چلانے اور آبپاشی کے لیے کاشتکار دو ارب لیٹر سالانہ ڈیزل استعمال کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے تقریباً تین کروڑ لوگوں میں سے بیشتر گھروں کا چولہا جلانے کے لیے مٹی کے تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے صرف وہ لوگ تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے ردو بدل سے مستفید ہوں گے جو موٹر سائیکل کو سواری کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ زرعی ماہر ابراہیم مغل کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس رد و بدل سے نہ صرف کاشتکاری کی قیمت میں اضافہ ہو گا بلکہ زرعی اجناس کو منڈی تک لیجانے کے کرائے میں اضافے سے صارف کے لیے پھلوں، سبزیوں اور عام استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا جس سے افراط زر کی شرح اور مہنگائی میں بھی اضافہ ہو گا۔ وفاقی حکومت نے تیل کی مصنوعات کی قیمتوں پر آخری نظر ثانی بیس جولائی کو کی تھی اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک سو بیالیس ڈالرز فی بیرل تھی۔ سوموار کے روز جب پاکستان میں نئے نرخوں کا اعلان ہوا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت اکانوے ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں جس تیزی سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، پاکستانی صارف کو اس تناسب سے قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہیں دیا گیا۔ اسکی وجہ حکومت کی وہ پالیسی ہے جسکے تحت ان مصنوعات کے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کو بتدریج ختم کیا جا رہا ہے۔ تین ماہ قبل حکومت ڈیزل اور مٹی کے تیل پر اوسطاً تیس روپے فی لیٹر سبسڈی دیتی تھی جو اب کم ہو کر نو روپے کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا کہ آئندہ چند ماہ کے دوران اس سبسڈی کو بالکل ختم کر دیا جائے گا جس کے بعد ان دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ڈیزل کے نرخ پٹرول سے بھی زیادہ ہو جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||