BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 July, 2008, 22:00 GMT 03:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل کی قیمتیں اور حکومتی منافع

پٹرول
عام صارف پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر پانچ سے تیرہ روپے اضافی ادا کرنے پر مجبور ہے
موجودہ حکومت نے پٹرول اور مٹی کے تیل پر عائد سیلز ٹیکس، مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے منافع اور اسکی ترسیل کے اخراجات میں بیس سے ستر فیصد اضافہ کر کے عام صارف کو ان مصنوعات پر فی لیٹر پانچ سے تیرہ روپے اضافی ادا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں تیل کی درآمد، اس کی صفائی اور ترسیل کے نام پر کمائے جانے والے نفع میں بھی حکومتی دعوؤں کے برعکس مسلسل اضافے کا عمل جاری ہے۔

اس سال فروری کی اٹھارہ تاریخ کو، جس روز پاکستانیوں نے نئی حکومت کو منتخب کیا، ملک میں پٹرول پر جنرل سیلز ٹیکس کی مقدار سات روپے تھی جبکہ آج بارہ روپے فی لیٹر ہر پاکستانی پٹرول پر سیلز ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم کے اعلان کے مطابق مٹی کے تیل پر عائد سیلز ٹیکس کو موجودہ حکومت نے ساڑھے چار روپے سے بڑھا کر آٹھ روپے کر دیا ہے۔

تیل اور گیس کے ریگولیٹری ادارے اوگرا سے حاصل کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان پانچ ماہ کے دوران تیل بیچنے والی غیر ملکی کمپنیوں اور ان کے مقامی ڈیلروں کے منافع میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملک کے طول و عرض میں ایک ہی سطح پر رکھنے کے لیے ٹرانسپورٹرز کو دئیے جانے والے نفع میں کیا گیا اضافہ قریباً سو فیصد ہے۔

تاہم حکومت نے پٹرولیم ڈیویلپمنٹ چارجز کا خاتمہ کیا ہے جو فی لیٹر پچاس پیسے ہوا کرتا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نگران حکومت نے پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کے نام پر خالص سرکاری نفعے کو ساڑھے سات روپے سے کم کر کے پچاس پیسے کیا تھا۔

 پٹرول کی قیمت میں ریفایئنری سے لیکر صارف تک پہنچنے کے اخراجات کو تقریباً دوگنا کر دیا گیا ہے۔ اٹھارہ فروری کو ریفائنری سے حاصل ہونے والے قابل استعمال پٹرول کی قیمت چوالیس روپے تھی جبکہ تمام منافعوں، اخراجات اور ٹیکسز کے بعد صارف کے لیے یہ پٹرول تریپن روپے میں دستیاب تھا یعنی ریفائنری سے صارف تک پہنچنے کے دوران پٹرول کی قیمت میں نو روپے کا اضافہ ہوا کرتا تھا۔ آج تیل ریفائنری سے یہ پٹرول انہتر روپے میں حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پٹرول پمپ پر یہ چھیاسی روپے میں دستیاب ہے۔ ریفائنری اور پمپ کی قیمت میں یہ فرق اب سترہ روپے تک پہنچ گیا ہے۔

اس کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت میں ریفایئنری سے لیکر صارف تک پہنچنے کے اخراجات کو تقریباً دو گنا کر دیا گیا ہے۔ اٹھارہ فروری کو ریفائنری سے حاصل ہونے والے قابل استعمال پٹرول کی قیمت چوالیس روپے تھی جبکہ تمام منافعوں، اخراجات اور ٹیکسز کے بعد صارف کے لیے یہ پٹرول تریپن روپے میں دستیاب تھا یعنی ریفائنری سے صارف تک پہنچنے کے دوران پٹرول کی قیمت میں نو روپے کا اضافہ ہوا کرتا تھا۔ آج تیل ریفائنری سے یہ پٹرول انہتر روپے میں حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پٹرول پمپ پر یہ چھیاسی روپے میں دستیاب ہے۔ ریفائنری اور پمپ کی قیمت میں یہ فرق اب سترہ روپے تک پہنچ گیا ہے۔

کسانوں کے ٹیوب ویلز میں استعمال ہونے والے لائیٹ ڈیزل آئیل کو پر عائد سیلز ٹیکس میں اسی فیصد اور اسے فروخت کرنے والی مارکیٹنگ کمپنیوں کے نفع میں ڈیڑھ سو فیصد اضافہ کر کے اس پر عائد مجموعی اخراجات میں اسی فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

گاڑیوں میں بطور ایندھن استعمال ہونے والے ڈیزل کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ شوکت عزیز کی حکومت نےڈی ریگولیش اور فری مارکیٹ اکانومی کی پالیسی کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی درآمد، قیمتوں کے تعین اور ترسیل کے معاملات سے حکومت کو الگ کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور ڈیزل کو اس فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا گیا تھا۔

لہٰذا ڈیزل کی قیمت کا تعین اب خالصتاً مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے مرہون منت ہے۔ اسی وجہ سے اس کے نرخ میں اتنا زیادہ تغیر پایا جاتا ہے کہ حکومت کو اسے صارفین کی پہنچ میں رکھنے کے لیے تیس روپے فی لیٹر تک سبسڈی دینی پڑ رہی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ریفائنری سے حاصل ہونے والے ڈیزل اور تیل کی قیمت کو بھی کم کیا جانا چاہئے۔ طویل عرصے تک پٹرولیم صنعت میں اعلٰی عہدوں پر کام کرنے والے سینیٹر دلاور عباس کا کہنا ہے پٹرول اور ڈیزل کی صفائی پر اٹھنے والے اخراجات اتنے نہیں جتنا کہ آئل ریفائنریز ظاہر کرتی ہیں۔

اسی طرح ڈیزل کی صفائی کا معیار بھی اس کے اخراجات کے مطابق نہیں ہے لہٰذا حکومت آئیل ریفائنری کے نفع کو کافی حد تک کم کرسکتی ہے۔

نا اہلی
 ’مارکیٹنگ کمپنیز کو یہ اضافی نفع چار سال قبل دینا شروع کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ملک کے لیے تیل کے اضافی ذخائر بنائیں۔ یہ پروجیکٹ اب مکمل ہو گیا ہے اور اس نفع پر نظر ثانی کی ضرورت ہے لیکن حکومت صرف اپنی کاہلی اور نا اہلی کی وجہ سے اس بارے میں کوئی پالیسی نہیں بنا پا رہی۔
دلاور عباس

سینیٹ کمیٹی برائے پٹرولیم مصنوعات کے سربراہ دلاور عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمیٹی نے اس بجٹ کے دوران حکومت سے سفارش کی تھی کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد سیلز ٹیکس میں خاطر خواہ کمی کی جائے۔

’ہم نے حکومت سے یہ بھی کہا تھا کہ مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے نفع میں بھی کمی ممکن ہے لیکن حکومت نے اس میں کمی کے بجائے ان غیر ملکی کمپنیوں کے نفع میں اضافہ کر دیا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’مارکیٹنگ کمپنیز کو یہ اضافی نفع چار سال قبل دینا شروع کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ملک کے لیے تیل کے اضافی ذخائر بنائیں۔ یہ پروجیکٹ اب مکمل ہو گیا ہے اور اس نفع پر نظر ثانی کی ضرورت ہے لیکن حکومت صرف اپنی کاہلی اور نا اہلی کی وجہ سے اس بارے میں کوئی پالیسی نہیں بنا پا رہی۔‘

 پیٹرول پمپمہنگائی بڑھ جائیگی
تیل کی قیمتوں پر لوگ کیا کہتے ہیں
کوکنگ آئلکوکنگ آئل کی کمی
آٹے، بجلی اور گیس کے بعد کوکنگ آئل کی کمی
اسی بارے میں
سی این جی کے مالکان پریشان
17 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد