تیل کی فراہمی متاثر، لوگ پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں اتوار کو پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات کے بعد کئی پٹرول پمپوں پر فراہمی روک دی گئی جس سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے اتوار کی رات تک پٹرولیم مصنوعات میں باقاعدہ اضافہ نہیں کیا تھا لیکن ملک کے ٹی وی چینلوں نے اپنے اپنے ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی خبر دی جس کے بعد بعض پٹرول پمپوں نےاپنے پٹرول سٹیشنوں کو بند کردیا۔ نجی ٹی وی چینلوں نے سہ پہر ہی سے اپنے ذرائع کے مطابق خبر دی کہ وزیرِاعظم نے ’اوگرا‘ یعنی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری منظور کر لی ہے اور نئی قیمتوں کا اطلاق اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہوگا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
الیکٹرونک میڈیا پر بار بار اس خبر کے نشر ہونے کے بعد بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ جب پٹرول پمپوں پر گئے تو انہیں بتایا گیا کہ یا تو وہاں پٹرول ختم ہوچکا ہے، یا بجلی نہیں ہے اور پمپ نہیں چل رہے لہذٰا پٹرول نہیں مل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح بہانے بازی سے پٹرول کی فراہمی روک دی گئی ہے تاکہ زیادہ منافع کمایا جا سکے۔ شہریوں نے مہنگائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے یکے بعد دیگرے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں مہنگائی کے بم گرائے گئے ہیں۔
ایک اور شہری سلیم احمد کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں اب غریب آدمی کو ایک وقت کی روٹی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے تمام اشیاء کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے جو توقع تھی وہ اس کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اب ختم ہو چکی ہے اور بے نظیر بھٹو کے فوت ہونے کے بعد موجودہ لوگوں میں وہ اہلیت ہی نظر نہیں آرہی کہ وہ غریبوں کا خیال کریں۔ ایک مزدور نذیر خان نے کہا کہ تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جس کا اثر ہر شے پر پڑ رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت باقی اشیاء کی قیمتوں کو کس طرح کم سطح پر رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک وزیرِاعظم کی جانب سے وعدوں کا تعلق ہے تو آج تک کسی بھی حکمران نے وعدہ پورا کیا ہے؟ یہ (وزیرِاعظم) بھی خیالی پلاؤ پکارہے ہیں پھر یہ چلے جائیں گے تو کوئی اور آئے گا اور وہ بھی اسی طرح عوام کو سبز باغ دکھائے گا اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا، ہونا کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور شفیق احمد کا کہنا ہے کہ جو بھی حکمران آتا ہے وہ کہتا ہے کہ خزانہ خالی ہے اور جانے والا کہتا ہے کہ وہ بھر کر جارہا ہے، بس چہرے بدل کر وہی لوگ حکمران ہیں اور پارٹیاں وہیں ہیں جن کو آزمایا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یکجا ہونا چاہیے اور اگر منتخب حکمران اپنے وعدوں پر پورے نہ اتریں تو انہیں سنگسار کرنا چاہیے۔ توقیر اسلم کہتے ہیں کہ جس طرح کی پپلزپارٹی کی حکومت ہوتی تھی، جو مزدوروں کی بات کرتی تھی اور ان کے لئے عملی اقدامات بھی کرتی تھی، فیصلے لینے میں اٹل ہوا کرتی تھی، لیکن اب لگتا ہے کہ یہ پارٹی صرف باتوں پر ہی یقین رکھتی ہے کیوں کہ کام تو کہیں نظر نہیں آرہا اور نہ ہی امید ہے کہ یہ جماعت مستقبل میں عوام کے لئے کچھ کر سکے گی۔ | اسی بارے میں سی این جی نرخوں کا بحران جاری16 July, 2008 | پاکستان سی این جی قیمت پر نوٹس جاری07 July, 2008 | پاکستان سی این جی غائب، عوام پریشان31 January, 2008 | پاکستان تیل پھر مہنگا کرنا پڑے گا:وزیر خزانہ26 April, 2008 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ29 June, 2008 | پاکستان دس برس: مہنگائی میں سو فیصد اضافہ17 August, 2006 | پاکستان مہنگائی، لاقانونیت کے خلاف دھرنا21 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||