BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 July, 2008, 15:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل کی فراہمی متاثر، لوگ پریشان

سی این جی کی کمی سے پریشان ٹیکسی ڈرائیور(فائل فوٹو)
’بہانے بازی سے پٹرول کی فراہمی روک دی گئی ہے تاکہ زیادہ منافع کمایا جا سکے‘
کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں اتوار کو پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات کے بعد کئی پٹرول پمپوں پر فراہمی روک دی گئی جس سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

حکومت نے اتوار کی رات تک پٹرولیم مصنوعات میں باقاعدہ اضافہ نہیں کیا تھا لیکن ملک کے ٹی وی چینلوں نے اپنے اپنے ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی خبر دی جس کے بعد بعض پٹرول پمپوں نےاپنے پٹرول سٹیشنوں کو بند کردیا۔

نجی ٹی وی چینلوں نے سہ پہر ہی سے اپنے ذرائع کے مطابق خبر دی کہ وزیرِاعظم نے ’اوگرا‘ یعنی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری منظور کر لی ہے اور نئی قیمتوں کا اطلاق اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہوگا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

سبز باغ
تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جس کا اثر ہر شے پر پڑ رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت باقی اشیاء کی قیمتوں کو کس طرح کم سطح پر رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک وزیرِاعظم کی جانب سے وعدوں کا تعلق ہے تو آج تک کسی بھی حکمران نے وعدہ پورا کیا ہے۔ یہ (وزیرِاعظم) بھی خیالی پلاؤ پکارہے ہیں پھر یہ چلے جائیں گے تو کوئی اور آئے گا اور وہ بھی اسی طرح عوام کو سبز باغ دکھائے گا اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا، ہونا کچھ بھی نہیں ہے
نذیر خان
مختلف ٹی وی چینل اس خبر کو بار بار نشر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اوگرا کی جانب سے رات گئے کسی بھی وقت نوٹیفکیشن کے ذریعے نئی قیمتوں کا اعلان متوقع ہے، تاہم یہ چینل تیل کی قیمتوں میں اضافے پر کسی بھی سرکاری اہلکار کا حوالہ نہیں دے رہے۔

الیکٹرونک میڈیا پر بار بار اس خبر کے نشر ہونے کے بعد بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ جب پٹرول پمپوں پر گئے تو انہیں بتایا گیا کہ یا تو وہاں پٹرول ختم ہوچکا ہے، یا بجلی نہیں ہے اور پمپ نہیں چل رہے لہذٰا پٹرول نہیں مل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح بہانے بازی سے پٹرول کی فراہمی روک دی گئی ہے تاکہ زیادہ منافع کمایا جا سکے۔

شہریوں نے مہنگائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے یکے بعد دیگرے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں مہنگائی کے بم گرائے گئے ہیں۔

پاکستان میں خواراک کے بحران سے پریشان لوگ
ایک شہری کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے پہلے سو دنوں میں آٹے کی قیمتوں پر قابو نہیں کرسکی اور نہ ہی اس کی فراہمی کو یقینی بنا سکی تو اب آگے اس سے مزید کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔

ایک اور شہری سلیم احمد کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں اب غریب آدمی کو ایک وقت کی روٹی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے تمام اشیاء کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔

ایک وقت کی روٹی
 مہنگائی کے اس دور میں اب غریب آدمی کو ایک وقت کی روٹی بھی مشکل ہوتی جارہی ہے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے تمام اشیاء کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے جو توقع تھی وہ اس کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اب ختم ہوچکی ہے اور بے نظیر بھٹو کے فوت ہونے کے بعد موجودہ لوگوں میں وہ اہلیت ہی نظر نہیں آرہی کہ وہ غریبوں کا خیال کریں
شہری سلیم احمد

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے جو توقع تھی وہ اس کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اب ختم ہو چکی ہے اور بے نظیر بھٹو کے فوت ہونے کے بعد موجودہ لوگوں میں وہ اہلیت ہی نظر نہیں آرہی کہ وہ غریبوں کا خیال کریں۔

ایک مزدور نذیر خان نے کہا کہ تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جس کا اثر ہر شے پر پڑ رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت باقی اشیاء کی قیمتوں کو کس طرح کم سطح پر رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک وزیرِاعظم کی جانب سے وعدوں کا تعلق ہے تو آج تک کسی بھی حکمران نے وعدہ پورا کیا ہے؟ یہ (وزیرِاعظم) بھی خیالی پلاؤ پکارہے ہیں پھر یہ چلے جائیں گے تو کوئی اور آئے گا اور وہ بھی اسی طرح عوام کو سبز باغ دکھائے گا اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا، ہونا کچھ بھی نہیں ہے۔

ایک ٹیکسی ڈرائیور شفیق احمد کا کہنا ہے کہ جو بھی حکمران آتا ہے وہ کہتا ہے کہ خزانہ خالی ہے اور جانے والا کہتا ہے کہ وہ بھر کر جارہا ہے، بس چہرے بدل کر وہی لوگ حکمران ہیں اور پارٹیاں وہیں ہیں جن کو آزمایا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یکجا ہونا چاہیے اور اگر منتخب حکمران اپنے وعدوں پر پورے نہ اتریں تو انہیں سنگسار کرنا چاہیے۔

توقیر اسلم کہتے ہیں کہ جس طرح کی پپلزپارٹی کی حکومت ہوتی تھی، جو مزدوروں کی بات کرتی تھی اور ان کے لئے عملی اقدامات بھی کرتی تھی، فیصلے لینے میں اٹل ہوا کرتی تھی، لیکن اب لگتا ہے کہ یہ پارٹی صرف باتوں پر ہی یقین رکھتی ہے کیوں کہ کام تو کہیں نظر نہیں آرہا اور نہ ہی امید ہے کہ یہ جماعت مستقبل میں عوام کے لئے کچھ کر سکے گی۔

اسی بارے میں
سی این جی غائب، عوام پریشان
31 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد