BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 July, 2008, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سی این جی قیمت پر نوٹس جاری

سی این جی
’حکومت کا کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں ہے جو اس قیمت کو کنٹرول کرے‘
سندھ ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر اٹارنی جنرل آف پاکستان، سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن اور ایندھن فروخت کرنے والی بعض کمپنیوں کو نوٹسز جاری کئے ہیں جس میں سی این جی کی قیمت میں غیرسرکاری اضافے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

یہ درخواست ایک وکیل مقبول الرحمٰن ایڈووکیٹ نے داخل کی ہے جس میں پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کی وفاقی وزارت، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن، پاکستان سٹیٹ آئل اور ایندھن فروخت کرنے والی دو نجی کمپنیوں کو فریق بنایا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے دو جولائی کو سی این جی کی قیمت میں اکتیس فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سی این جی ڈیلرز نے اسی حساب سے قیمتیں بڑھا دی تھیں لیکن اگلے ہی دن حکومت کی جانب سے یہ وضاحت آئی کہ چار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

درخواست گذار کے مطابق حکومت کی وضاحت کے بعد سی این جی کی نئی قیمت تینتالیس روپے پچاسی پیسے فی کلوگرام بنتی ہے لیکن فیول سٹیشنز پر سی این جی کی قیمت اب تک سینتالیس روپے پچیس پیسے فی کلو گرام وصول کی جا رہی ہے۔

مقبول الرحمٰن نے بتایا ’سی این جی فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جو قیمت وہ وصول کر رہے ہیں وہ سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مقرر کی ہے اور یہ کہ وہ صرف ایسوسی ایشن کی ہی بات مانیں گے۔‘

درخواست گذار کا کہنا ہے کہ حکومت کا کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں ہے جو اس قیمت کو کنٹرول کرے اور اس کے باعث لوگوں کا کروڑوں روپیہ سی این جی ڈیلرز کے پاس چلا گیا ہے۔

 سی این جی فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جو قیمت وہ وصول کررہے ہیں وہ سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مقرر کی ہے اور یہ کہ وہ صرف ایسوسی ایشن کی ہی بات مانیں گے۔
مقبول الرحمٰن

’حکومت کے اندر حکومت تو نہیں چل سکتی اور سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ قیمتیں مقرر کرے۔‘

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سی این جی کی قیمت میں ناجائز اضافے کے تحت عوام سے جو اضافی پیسہ لیاگیا ہے اسے واپس لیا جائے اور اسے گاہکوں کو واپس دیا جائے یا پھر سٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کرایا جائے اور اس پیسے کو جیلوں کے اندر قیدیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔

درخواست میں ان سرکاری افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جنہوں نے غلطی سے سی این جی کی قیمت میں اکتیس فیصد اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا اور اس کی وجہ سے لوگوں سے بھاری رقم زائد وصول کی گئی۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس عزیز اللہ میمن نے پیر کو درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت دس جولائی کو مقرر کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد