BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 July, 2008, 17:17 GMT 22:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیمتوں میں ابہام، مالکوں کے مزے

اسلام آْباد میں چار لاکھ گاڑیاں سی این جی استعال کرتی ہیں
حکومت کی جانب سے گاڑیوں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی قدرتی گیس (سی این جی) کی قیمت کے تعین کے بارے میں غلط فہمی کے نتیجے ملک بھر میں سی این جی کے لاکھوں صارفین کو کروڑوں روپے اضافی ادا کرنے پڑے۔

کئی مقامات پر صارفین اور سی این جی فروخت کرنے والوں کے درمیان نوک جھوک اور تکرار کی اطلاعات ملی ہیں۔

سی این جی فروخت کرنے والے سٹیشن مالکان کی ملک گیر تنظیم نے سرکاری طور پر مقرر کردہ چوالیس روپے فی کلو کے نرخ مسترد کرتے ہوئے اپنے طور پر نئے نرخوں کے تعین کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین ثنا رحمٰن نے کہا کہ نو سال قبل ہونے والے ایک معاہدے کی رو سے قدرتی گیس کی مناسبت سے سی این جی کے نرخ کا تعین کرنا ان کا حق ہے اور وہ اس بارے میں حکومت کی ڈکٹیشن تسلیم نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ دو روز تک سی این جی اڑتیس سے چالیس روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جائے گی جس کے بعد وہ اپنی تنظیم کے ارکان کی مشاورت سے نئے نرخوں کا اعلان کریں گے۔

سی این جی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی اس پریس کانفرنس سے قبل ملک بھر کے بیشتر سٹیشنوں حکومتی اعلان کے برعکس گیس اکاون روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرتے رہے۔

حکومت نے سوموار کے روز قدرتی وسائل کی وزارت کے انچارج وزیر شاہ محمود قریشی کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں سی این جی کا نرخ غلطی سے اکاون روپے مقرر کرنے کے اعلان کو اگلے روز واپس لیتے ہوئے نئے نرخ چوالیس روپے فی کلو مقرر کئے تھے۔

ان دو روز میں پاکستان میں سی این جی کے لاکھوں صارفین سے کروڑں روپے اضافی وصول کئےگئے۔ صارفین کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے غیر تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مطابق اس دوران سی این جی صارفین سے چوبیس کروڑ روپے اضافی وصول کئے گئے۔

سرکاری طور پر پاکستان سی این جی کوگاڑیوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کرنے والا ایشیا کا سب سے بڑا ملک ہیں۔ صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آْباد میں چار لاکھ گاڑیاں سی این جی استعمال کرتی ہیں۔

سی این جی کے استعمال سے ملک کو روزانہ بائیس کروڑ لیٹر درآمدی پٹرول کی بچت بھی ہوتی ہے۔

اسلام آباد کی جناح سپر مارکیٹ میں ایک سی این جی سٹیشنز پر موجود بعض صارفین نے سرکاری طور پر مقرر کردہ سے زائد نرخ وصول کرنے پر احتجاج کیا اور اضافی پیسے دینے اور اپنی گاڑیاں وہاں سے ہٹانے سے انکار کیا۔ اس موقع پر سٹیشن مینجر اور صارفین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ تاہم احتجاج کرنے والوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر انتظامیہ نے اضافی شدہ نرخ واپس لینے کا اعلان کیا۔

اس طرح کی صورحال بعض دیگر شہروں میں بھی دیکھنے میں آئی جس کے بعد سی این جی مالکان کی تنظیم نے اسلام آباد میں قدرتی وسائل کی وزارت کے افسران سے مذاکرات کے بعد مذکورہ پریس کانفرنس میں اپنی حکمت عملی کا اعلان کیا جس کے بعد گیس کی قیمتوں کی یہ بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں
سی این جی غائب، عوام پریشان
31 January, 2008 | پاکستان
سی این جی کے مالکان پریشان
17 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد