پشاور: سی این جی ہڑتال کا دوسرا دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں سی این جی سٹیشنز کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں شروع کی گئی ہڑتال بدھ کو دوسرے روز بھی جاری رہی جس سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ سی این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پٹرول کی فروخت میں بھی زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ناظم پشاور نے سٹیشن مالکان کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ سی این جی سٹیشنز پر لگائے جانے والے ےٹیکس کو واپس لے لیا جائے۔ سی این جی ایسوسی ایشن صوبہ سرحد کی طرف سے ہڑتال کی وجہ سے شہر بھر کے تقریباً ستر سے زائد سی این جی سٹیشنز اور ان سے ملحق ورکشاپس بند رہے۔ سی این جی کی سپلائی بند ہونے کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم سی این جی سٹیشنوں کے قریب سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں اور ٹیکسیاں کھڑی ہیں۔ یونیورسٹی روڈ، صدر اور کوہاٹ روڈ پر سی این جی سٹیشنوں کے سامنے بڑے بڑے بینرز اور ٹینٹ لگے ہوئے ہیں جس پر لکھا ہوا ہے کہ ’ہڑتال کی وجہ سے سٹیشن بند ہے لہذا زحمت نہ کریں۔‘ ان سٹیشنز کے اردگر رکاوٹیں بھی کھڑی کر کےگاڑیوں کے داخلے کے تمام راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔ ہڑتال کی وجہ سے گیس پر چلنے والی گاڑیوں کے مالکان کے علاوہ ٹیکسی ڈرائیوروں کو خصوصی طورپر سخت مشکلات کا سامنا پڑ رہا ہے۔ نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیکسی ڈرائیور سید طارق رحمان کاکا خیل نے بی بی سی کو بتایا کہ سی این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہیں روزانہ ایک ہزار روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ کل سے میری ٹیکسی کھڑی ہے، شہر میں کہیں پر بھی سی این جی نہیں ہے جبکہ پٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے استعمال نہیں کر سکتا۔ اس لیے نقصان ہی نقصان ہے۔‘
ایک افغان ٹیکسی ڈرائیور توریلے نے بتایا کہ شہر کے زیادہ تر ٹیکسی ڈرائیور پشاور کے قریب واقع اضلاع چارسدہ اور نوشہرہ جاکر سی این جی حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل سے پٹرول استعمال کر رہے ہیں لیکن سواریاں انہیں سی این جی کے ریٹ سے پیسے دے رہی ہیں جس سے ان کو نقصان ہو رہا ہے۔ سی این جی نہ ہونے کی وجہ سے پشاور میں پٹرول کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ گریژن پٹرول فلنگ سٹیشن کے منیجر نور حیدر کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دنوں سے پٹرول کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اضافہ اس طرح جاری رہا تو پٹرول کی قلت کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دریں اثناء سی این جی ایسو سی ایشن، صوبہ سرحد نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہیں مانے گئے تو ہڑتال کا دائرہ کار صوبہ بھر تک پھیلادیا جائے گا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان پر ضلعی حکومت کی جانب سے لگایا گیا ایک فیصد ٹیکس واپس لیا جائے اور غیر قانونی سٹیشنز فوری طور پر بند کیے جائیں اور سی این جی سٹیشنز کے حوالے سے بنائے گئے قوانین پر عمل درامد کو یقینی بنایا جائے۔ ضلعی ناظم پشاور حاجی غلام علی نے واضح کیا ہے کہ سی این جی سٹیشنز پر عائد کیا گیا ٹیکس کسی صورت میں واپس نہیں ہوگا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلعی حکومت نے یہ ٹیکس قانونی طریقے سے لگایا ہے جس کی منظوری صوبائی حکومت بھی دے چکی ہے۔ ضلعی ناظم نے کہا کہ ’اگر ہم ملک میں ٹیکس کا کلچر فروغ نہیں دیں گے تو ملک و قوم ترقی کیسے کرے گی۔ جب تک ہم ذریعہ آمدن نہیں بڑھائیں گے تو عوام کو سہولیات نہیں دے سکیں گے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام کی خاطر وہ اس مسئلے کو حل کرانے کے لیے سی این جی مالکان سے مزاکرات کے لیے تیار ہیں۔ | اسی بارے میں پشاور:سی این جی سٹیشنز کی ہڑتال21 August, 2007 | پاکستان پاکستان: تیل کی قیمت میں کمی15 January, 2007 | پاکستان ایک روزہ علامتی ہڑتال کی دھمکی 02 October, 2005 | پاکستان پیٹرول کی قیمتوں پر ہڑتال12 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||