پشاور:سی این جی سٹیشنز کی ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے اپنے تین نکاتی مطالبات کے حق میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال شروع کر دی ہے، جس کی وجہ سے منگل کو شہر کے تقربناً تمام سی این جی سنٹرز بند رہے۔ شہر کے مختلف علاقوں یونیورسٹی روڈ، صدر، کوہاٹ روڈ، باڑہ اور جی ٹی روڈ پر قائم تمام سی جی سنٹرز صبح ہی سے بند ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو گاڑیوں کے لیے گیس حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ ان سنٹرز کے قریب واقع سی این جی ورکشاپس بھی ہڑتال کی وجہ سے بند رہیں۔ سی این جی ایسوسی ایشن کے ایک مرکزی عہدیدار غیاث پراچہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلعی حکومت نے تمام سی این جی سٹیشنز پر ایک فی صد ٹیکس لاگو کیا ہے لیکن ان کے بقول سی این جی مالکان پہلے ہی سے تقریباً آٹھ قسم کے مختلف ٹیکس ہر سال باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ نیا لگایا گیا ٹیکس پورے پاکستان میں کہیں پر بھی نہیں صرف پشاور میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں غیر قانونی سی این جی سٹیشنز کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور سی این جی سنٹرز کے حوالے سے قوانین پر بھی عمل درامد نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ ماہ کے دوران مختلف سی این جی سٹیشنز میں چار بم دھماکے ہو چکے ہیں جس میں کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں جبکہ مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اپنے مطالبات کے حوالے سے کئی بار حکومت سے رابطے کی کوشش کی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی لہذا ہم نے مجبوراً سی این جی سنٹرز بند کیے ہیں اور یہ اس وقت تک بند رہیں گے جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔‘ اس سلسلے میں ضلعی حکومت کا موقف جاننے کے لئے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔ | اسی بارے میں پاکستان: تیل کی قیمت میں کمی15 January, 2007 | پاکستان ’موجودہ بسیں، ویگنیں ختم کریں‘23 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||