سی این جی غائب، عوام پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کے دیگر حصوں کی طرح اسلام آباد میں بھی سی این جی کی ترسیل میں تعطل کی وجہ سے لگ بھگ تمام سی این جی سٹیشن بند ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سی این جی کی فراہمی کے اس طرح اچانک بند ہونے سے عام لوگ شہر بھر کے سی این جی اسٹیشن کے چکر لگاتے رہے اور مختلف جگہوں پر سی این جی ختم ہونے کے باعث گاڑیوں کو دھکیلتے نظر آئے۔ سی این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے عام لوگوں اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو مجبوراً پٹرول استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ سی این جی سٹیشن پرگیس نہ ملنے کے باعث پٹرول ڈلوانے والے عبیداللہ نے کہا کہ وہ صبح سے سی این جی کے لیے مختلف گیس سٹیشنوں کے چکر لگا چکے ہیں اور اب انہیں مجبورا پٹرول ڈلوانا پڑا ہے۔ ان کے مطابق ان کا گیس ڈلوانے کے لیے مخصوص بجٹ ہوتا ہے اور اب پٹرول کے استعمال سے انہیں بہت مشکل پیش آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا دارالخلافہ ہونے کے باوجود اس طرح کے مسائل کا سامنا ہے اور یہ سب موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
ٹیکسیوں میں پٹرول کے استعمال کی وجہ سے ٹیکسی کے کرایوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ٹیکسی ڈرائیور اور سفر کرنے والے دونوں ہی پریشان ہیں۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ’گیس کا بحران موجودہ حکومت کا نیا تحفہ ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’گیس ہمارے ملک میں پیدا ہوتی ہے اور موجودہ بحران کی وجہ سمجھ نہیں آتی‘۔ اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو لوگ آپس میں لڑیں گے اور چوریاں کریں گے کیونکہ پیٹ کی خاطر کچھ نا کچھ تو کرنا پڑتا ہے‘۔ جمعرات کو جب شام گئے چند سی این جی سٹیشنز پر سی این جی کی فراہمی شروع بھی ہوئی تو وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ان قطاروں میں کھڑے لوگوں کو بھی صرف 100 روپے کی گیس دی گئی۔ سی این جی حاصل کرنے والے ایک صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس قدر کم سی این جی کا کیا فائدہ؟ تین گھنٹے انتظار کرنے کے بعد محض سو روپے کی سی این جی مل سکی ہے‘۔
سی این جی سٹیشن مالکان کے مطابق ایس این جی پی ایل حکام نے بغیر کسی نوٹس کے رات گئےگیس کی فراہمی بند کر دی تھی۔ اسلام آباد میں ایف ایٹ کے ایک سی این جی سٹیشن کے مالک نے بتایا کہ حکام نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے گیس کی فراہمی معطل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سی این جی ایسوسی ایشن کے درمیان کچھ دن پہلے ہونے والے اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ مختلف شہروں میں گیس اسٹیشن رضاکارانہ طور پر بند رکھے جائیں گے تاہم اس کے بعد اس فراہمی کو معطل کرنا سراسر غلط ہے۔ | اسی بارے میں سی این جی کے مالکان پریشان17 January, 2008 | پاکستان سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج03 January, 2008 | پاکستان پشاور: سی این جی ہڑتال کا دوسرا دن22 August, 2007 | پاکستان کم منافع، پٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال31 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||