BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی ٹرانسپورٹ ہڑتال، زندگی مفلوج

پہیہ جام ہڑتال
دوپہر کو کچھ منی بسیں سڑکوں پر نظر آئیں جو جلد غائب ہو گئیں
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں منگل کو ٹرانسپورٹروں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مکمل ہڑتال کی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پہیہ جام ہڑتال کا اعلان ٹرانسپورٹر اتحاد نے کیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت چار روپے گیارہ پیسے کےاضافے کے بعد باسٹھ روپے نواسی پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت دو روپے نواسی پیسے اضافے کے بعد چوالیس روپے بیس پیسے ہوگئی ہے۔

شہر کی تمام سڑکیں پبلک ٹرانسپورٹ سے خالی ہیں۔ صبح کو سکول اور دفاتر جانے والے طلبہ اور ملازمین کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کئی بچے سکول نہیں پہنچ پائے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے انتظار میں لوگ کئی گھنٹے تک سڑکوں پر گاڑیوں کا انتظار کرتے رہے مگر بسوں، منی بسوں کا دور دور تک نام و نشان نظر نہیں آ رہا ہے۔

 حکومت نے گزشتہ ایک سال سے کرایوں میں بھی اضافہ نہیں کیا ہے اس لیے فوری طور پر کرایوں میں اضافے کی اجازت دی جائے تاکہ ٹرانسپورٹر خسارے سے باہر نکل سکیں۔
کراچی ٹرانسپورٹر اتحاد

سڑکوں پر نجی گاڑیوں سمیت ٹیکسی اور رکشہ موجود ہیں کیونکہ ٹیکسی اور رکشہ مالکان نے ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال میں شریک ہونے سے انکار کیا تھا۔

ان کا موقف تھا کہ چونکہ ان کی گاڑیاں سی این جی اور ایل پی جی پر چلتی ہیں اس وجہ سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے وہ متاثر نہیں ہوئے۔

دوپہر کو کچھ منی بسیں سڑکوں پر نظر آئیں جو کہ گنجائش سے کہیں زیادہ بھری ہوئی تھیں مگر بعد میں یہ بسیں بھی بند ہوگئیں۔

کراچی ٹرانسپورٹر اتحاد کے سربرارہ ارشاد بخاری کا کہنا تھا کہ حکومت کو حالیہ اضافے کو فوری طور پر واپس لینا چاہئیے۔’اس سے عام آدمی پر بوجھ اور مہنگائی میں اضافے ہو رہا ہے۔‘

پہیہ جام
شہر میں کچھ تنظیموں کی جانب سے بینر بھی لگائے گئے ہیں

ان کا کہنا تھا ’حکومت نے گزشتہ ایک سال سے کرایوں میں بھی اضافہ نہیں کیا ہے اس لیے فوری طور پر کرایوں میں اضافے کی اجازت دی جائے تاکہ ٹرانسپورٹر خسارے سے باہر نکل سکیں۔‘

شہر میں کچھ تنظیموں کی جانب سے بینر بھی لگائے گئے ہیں جن میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اضافی کرایہ ادا نہ کریں۔

واضح رہے کہ نگران حکومت کا کہنا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور بجیٹ خسارے سے بچنے کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
01 March, 2008 | پاکستان
سی این جی کے مالکان پریشان
17 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد