فیصل آباد: صنعت کاروں کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صنعتی شہرفیصل آباد کے کارخانہ داروں نے اعلان کیاہے کہ اگر حکومت نے بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو گیارہ جولائی سے ہڑتال کردی جائے گی اور کارخانے غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیے جائیں گے۔ اس ہڑتال کا فیصلہ فیصل آباد چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں ٹیکسٹائل سے وابستہ تمام صنعتوں کی ایسوسی ایشنوں کے عہدیداروں مل مالکان اور دیگر کارخانوں کے مالکان نے شرکت کی۔ فیصل آباد چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر خواجہ عاصم خورشید نے بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیداواری لاگت اتنی بڑھ چکی ہے کہ فیصل آباد کی پوری انڈسٹری تباہی کے دہانے پر آکھڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں قدرتی گیس کی قیمت میں گزشتہ ہفتے اضافہ کردیا گیا جس کے تحت صنعتی صارفین کو اکتیس فیصد تک زائد نرخ ادا کرنے ہونگے جبکہ جن صنعتوں نے گیس پر بجلی پیدا کرنے کے جرنیٹر لگائے ہیں ان کے لیے یہ اضافہ اڑسٹھ فی صد تک ہوگا۔ خواجہ عاصم خورشید کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں بائیس فی صد اضافے کا اعلان بھی سنا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں اضافے ناقابل قبول ہیں۔ پاکستان کی ساٹھ فی صد سے زائد برآمدت ٹیکسٹائل سے متعلق ہیں جبکہ فیصل آباد کو پاکستان کا ٹیکسٹائل کیپٹل قرار دیا جاتا ہے اور ملک کی آدھی سے زیادہ ٹیکسٹائل پیدوار فیصل آباد میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے سٹیٹ بنک نے شرح سود میں اضافہ کیا، مزدورں کی کم از کم تنخواہ میں اضافہ ہوا اور برآمدات پر ملنی والی مختلف ڈیوٹی ڈرابیک اور تحقیق و ترقی کی مد میں ملنے والی رعاتیں ختم کی گئی ہیں۔ اظہر مجید ایک ایسی ٹیکسٹائل ملز کے مالک ہیں جس میں سات ہزار مزدور کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سود کی شرح میں اضافہ کیا جس سے ان جیسی انڈسٹری کے مالک کو ماہانہ کم از کم ایک کروڑ روپے کا نقصان ہونا شروع ہوا، پھر برآمد پر ڈیڑھ دوکروڑ روپے ماہوار کی رعایت ختم کی گئی۔مزدوروں کی تنخواہوں میں ڈیڑھ ہزار ماہوار اضافہ سے ایک کروڑ اضافی ادائیگیوں کا بوجھ پڑا اور اب قدرتی گیس کی قیمت میں اضافے کے بعد مزید ڈیڑھ کروڑ روپے کا بوجھ ہوگا جو ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان کو ان دنوں توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں بین الاقوامی اضافے کے بعد پاکستان میں پٹرول اور تیل کی قیمت میں تیزی سے بڑھائی جاچکی ہیں جبکہ قدرتی گیس کی قیمتوں میں تازہ اضافہ کردیا گیا ہے۔ پاکستان کو بجلی کی چارہزار میگا واٹ روزانہ کی قلت ہے اور مختلف علاقوں میں چھ سے دس گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ شیخ اظہر مجید نے کہا کہ بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے پہلے فیصل آباد کے کارخانے داروں نے ڈیزل جرنیٹر لگائے۔ لیکن ڈیزل کی قیمت بڑھ جانے کے بعد کروڑوں روپے مالیت کے جرنیٹر کباڑ کے بھاؤ اٹھانے پڑے پھر گیس کے جرنیٹر لگائے گئے لیکن پہلےسردیوں میں گیس کی قلت کا سامنا رہا اور اب قیمت میں اس قدر اضافہ ہوچکا ہے کہ صنعتکار اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ کارخانہ چلانے کی بجائے اسے بند کرنے میں کم نقصان ہے۔انہوں نے کہا اگر پیدواری لاگت کم کرنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو انڈسٹری اپنی موت آپ مر جائے گی۔ فیصل آباد کے صنعتکاروں نےایوان صنعت و تجارت کے صدر خواجہ عاصم خورشید کی سربراہی میں ایک ایکشن کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو مزید لائحہ عمل طے کرےگی۔ خواجہ عاصم نے بتایا کہ پیر کو کارخانہ دار بازوپر سیاہ پٹیاں باندھ کر جلوس نکالیں گے اور جمعہ سے فیکٹریاں بند کردی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کارخانوں کی بندش سے جہاں ملکی صنعتی پیدوار میں کمی ہوگی وہاں لاکھوں محنت کش بھی متاثرہوں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ | اسی بارے میں پیٹرول کی قیمت میں پھراضافہ01 May, 2008 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ29 June, 2008 | پاکستان قیمتوں میں ابہام، مالکوں کے مزے02 July, 2008 | پاکستان کراچی:بجلی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ07 April, 2008 | پاکستان ملتان میں ہنگامہ آرائی، 50 گرفتار14 April, 2008 | پاکستان کرائے پر بجلی گھر، کالا باغ نہیں08 May, 2008 | پاکستان بجلی کا بحران شدید ہوتا جا رہا ہے13 May, 2008 | پاکستان بجلی کی ریکارڈ قلت ختم27 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||