کرائے پر بجلی گھر، کالا باغ نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ بجلی کے موجودہ بحران پر قابو پانے کے لیے بائیس سو میگا واٹ کے بجلی گھر کرائے پر حاصل کئے جارہے ہیں جو اس سال کے آخر تک پیداوار شروع کر دیں گے۔ سینیٹ میں لوڈشیڈنگ پر جاری بحث کو سمٹتے ہوئے انہوں ایوان کو آگاہ کیا کہ حکومت کالا باغ جیسے متنازعہ ڈیم تعمیر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی بلکہ ایسے منصوبے پرغور کر رہی ہے جو صلاحیت اور اخراجات کے لحاظ سے اس سے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی ملک کی بجلی کی کل پیداوار اور کھپت میں فرق چار ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے جسے لوڈ شیڈنگ سے پورا کیا جا رہا ہے۔ سینٹ میں توانائی کے بحران پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ بجلی کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے حکومت کے پاس فوری وسائل دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیدوار بڑھانے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن فوری طور پر یہ کمی لوڈشیڈنگ سے ہی پوری کی جاسکتی ہے۔ وضاحت کرتے ہونے انہوں نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کا تیز ترین ذریعہ کرائے پر بجلی گھر حاصل کرنا ہے لیکن ان کی تنصیب پر بھی چھ سے آٹھ ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ بجلی کی کمی کے فوری حل کے بارے میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسا صرف بجلی کی بچت سے ہی ممکن ہے۔ جس کے لیے ان کی وزارت مختلف پروگرام شروع کر رہی ہے۔ ان میں کم بجلی استعمال کرنے والے ’انرجی سیور بلب‘ کا فروغ، بڑے ہولڈنگ اور شادی ہال کو بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کے علاوہ بجلی کم استعمال کرنے والے صارفین کے لیے مراعات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی وزارت ایسے بچوں کو تعلیم مکمل کرنے کے لیے وظائف دینے پر بھی غور کر رہی ہے جو اپنے گھروں کے بجلی کے بلوں میں کمی کرنے کا ثبوت پیش کریں گے۔ راجہ پرویز اشرف نےایوان کو آئندہ برسوں کے دوران بجلی کی پیداوار کے نئے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی کی چوری روکنے کے لئے بھی حکومت بعض اقدامات کا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ اس مد میں ضائع ہونے والی بجلی کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے اور بعض شہروں میں تو ضائع ہونے والی بجلی کا تناسب تیس فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے اطلاع دی کہ ایک فیصد بجلی ضایع ہونے سے واپڈا اور چار ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ، وفاقی وزیر نے کہا بعض سرکاری محکمے بھی بجلی کا بل ادا نہیں کرتے اور اسی طرح کے ایک ادارے کے ذمہ واپڈا کے بقایا جات ایک سو ستر ارب سے تجاوز کر چکے ہیں۔ | اسی بارے میں صوبۂ سرحد کا مرکز سے مطالبہ17 June, 2007 | پاکستان سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج03 January, 2008 | پاکستان پاکستان میں بجلی کا شدید بحران04 January, 2008 | پاکستان آٹے گیس کی قلت، پشاور میں مظاہرہ 11 January, 2008 | پاکستان ڈیم کی تعمیر کیلیے صارفین پر ٹیکس05 March, 2008 | پاکستان بجلی کا بریک ڈاؤن، تحقیقات شروع25 March, 2008 | پاکستان کراچی:بجلی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ07 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||