BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 March, 2008, 18:06 GMT 23:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیم کی تعمیر کیلیے صارفین پر ٹیکس

بجلی
’نیلم جہلم سرچارج تو ایک قومی اثاثے میں سرمایہ کاری ہے کیونکہ اس سے مستقبل میں سستی بجلی ملے گی‘
نگراں حکومت نے ایک ڈیم کی تعمیر کے لیے درکار اربوں روپے حاصل کرنے کی خاطر صارفین پر ایک نیا ٹیکس لگا دیا ہے جو ہر صارف کو دس پیسے فی یونٹ کے حساب سے ماہانہ بل کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔

اس ٹیکس کا نفاذگزشتہ مہینے سے ہوگا اور اس کا علم صارفین کو روان مہینے موصول ہونے والے بجلی کے بلوں سے ہوا ہے۔

نگراں حکومت نے حال ہی میں بجلی کے نرخوں میں نو فیصد اضافہ کیا ہے جس کے تحت بجلی کے ہر یونٹ پر انتالیس پیسے بڑھائے گئے ہیں۔

واپڈا حکام کے مطابق یہ سرچارج اس اضافے کے علاوہ ہوگا۔ اس طرح نگراں حکومت نے بجلی کے نرخوں میں انچاس پیسے فی یونٹ یعنی گیارہ فیصد سے زیادہ اضافہ کردیا ہے۔

نئے ٹیکس کو این جے ایس یعنی نیلم جہلم سرچارج کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد واپڈا کے حکام کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ کی تکمیل کے لیے درکار سرمایہ حاصل کرنا ہے۔

واپڈا کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ نگراں وفاقی کابینہ نے کیا ہے جس پر وہ صرف عمل کر رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واپڈا کے چئرمین شکیل درانی نے کہا کہ ’یہ اصل میں سرچارج ہے اور اس کا اطلاق ان صارفین پر نہیں ہوگا جو ماہانہ پچاس یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 130 ارب روپے ہے اور نگراں حکومت نے لاگت کا نصف حصہ یعنی 65 ارب روپے صارفین سے سرچارج کے ذریعے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ باقی رقم غیرملکی مالیاتی اداروں سے حاصل کی جائے گی۔

صارفین سات سال تک سرچارج دینگے
 منصوبے کے تحت چترکلاس کے مقام پر ایک بجلی گھر بنایا جائے گا اور اسے چلانے کے لیے دریائے نیلم سے بجلی گھر تک 47 کلومیٹر لمبی سرنگ بنائی جائے گی بعد میں یہ پانی دریائے جہلم میں چھوڑا جائے گا۔ یہ منصوبہ سات سال میں مکمل ہوگا اس لیے سات سال تک یہ سرچارج صارفین سے وصول کیا جائے گا۔
شکیل درانی

منصوبے کے تحت چترکلاس کے مقام پر ایک بجلی گھر بنایا جائے گا اور اسے چلانے کے لیے دریائے نیلم سے بجلی گھر تک 47 کلومیٹر لمبی سرنگ بنائی جائے گی بعد میں یہ پانی دریائے جہلم میں چھوڑا جائے گا۔ یہ بجلی گھر ساڑھے نو سو میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔

صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ مہینے کی دس تاریخ کو اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس کی تعمیر کا ٹھیکہ چین کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے۔

چئرمین واپڈا کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ سات سال میں مکمل ہوگا اس لیے سات سال تک یہ سرچارج صارفین سے وصول کیا جائے گا۔

اس سوال پر کہ بجلی کے نرخوں میں حالیہ نو فیصد اضافے کے باوجود اس نئے ٹیکس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کا کہنا تھا کہ ’سرچارج لگانے کا فیصلہ نرخوں میں اضافے سے پہلے کیا گیا تھا لیکن اتفاق ہے کہ دونوں کا نفاذ آگے پیچھے ہوا ہے‘۔

نگراں وفاقی وزیر خزانہ سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے اور نیلم جہلم سرچارج کے اقدامات الگ الگ پس منظر میں اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے بقول نرخوں میں اضافہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی بناء پر کیا گیا۔ ’تیل کی قیمتیں پچھلے پانچ چھ ماہ میں تقریباً پچھتر فیصد بڑھی ہیں اور چونکہ ہماری بجلی کا بہت بڑا حصہ تھرمل پاور سے آتا ہے اسم لیے اس کا کچھ بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کی ضرورت تھی جب کہ نیلم جہلم سرچارج تو ایک قومی اثاثے میں سرمایہ کاری ہے کیونکہ اس سے مستقبل میں سستی بجلی ملے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان کے لوگوں پر ٹیکسوں کا بڑا بوجھ ہے۔ ’پاکستان میں ٹیکس دینے کی شرح جی ڈی پی کے مقابلے میں صرف دس فیصد ہے جو کہ دنیا کے دوسرے ترقی پذیر ممالک سے بہت کم ہے‘۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ حکومت نے اپنے ترقیاتی فنڈز سے جو خود لوگوں کے ٹیکسوں کا پیسہ ہوتا ہے اس بجلی گھر کے لیے پیسے مختص کیوں نہیں کیے؟ تو سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ ’ترقیاتی فنڈز تو اپنی جگہ ہیں ہم نے تو یہ ایک نیا مثبت طریقہ متعارف کرایا ہے تاکہ ہمیں اس طرح کے منصوبوں کے لیے ٹیکس ریونیو کے علاوہ بھی رقم حاصل ہو‘۔

لوگوں پر ٹیکسوں کا بڑا بوجھ نہیں
 یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان کے لوگوں پر ٹیکسوں کا بڑا بوجھ ہے۔ پاکستان میں ٹیکس دینے کی شرح جی ڈی پی کے مقابلے میں صرف دس فیصد ہے جو کہ دنیا کے دوسرے ترقی پذیر ممالک سے بہت کم ہے

اس سوال پر کہ کیا اس طرح کے اہم فیصلے نگراں حکومت کو آنے والی منتخب حکومت پر نہیں چھوڑ دینے چاہیں؟ تو ان کا جواب تھا کہ ’نہیں ایسی بات نہیں ہے، حکومت کو جو فیصلے کرنے ہوتے ہیں اسے اس کا اختیار ہوتا ہے اور جو قومی مفاد میں فیصلے ہوتے ہیں وہ کئی بار کرنے پڑتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بھی صارفین کو قومی مفاد کے دوسرے منصوبوں کے لیے بھی مستقبل میں اس طرح کے سرچارج دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

پاکستان میں عوام کی رائے معلوم کیے بغیر ٹیکسز اور سرچارجز لگانا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ کسی بڑے منصوبے کے لیے فنڈز عوام سے براہ راست حاصل کرنے کے لیے ان کی رائے جانے بغیر اس طرح یوٹیلٹی بل میں سرچارج لگایا گیا ہے۔

بجلیبجلی کا شدید بحران
’شہر میں دس، دیہات میں15 گھنٹے بجلی بند‘
 فائل فوٹوکراچی: بجلی کا بحران
لوڈشیڈنگ سے شہری اور صنعتکار پریشان
قبائل اور سیاست
وانا میں دو ہفتوں سے بجلی نہیں
پن بجلیپن بجلی
سرحد میں نئی پالیسی کا اعلان
بجلی رے بجلی
بجلی کا بحران اور شہریوں کا احوال
پرتشدد احتجاج
بجلی کے بحران پر کراچی میں پرتشدد احتجاج
اقتصادی سروے
ایک لاکھ سکول بنیادی سہولیات سے محروم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد