بجلی کا بحران شدید ہوتا جا رہا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں موسم گرما کی شدت میں اضافے کے ساتھ بجلی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی ( پیپکو) کے ڈائریکٹر جنرل انرجی مینجمنٹ اینڈ کنزیومر طاہر بشارت پراچہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لوڈشیڈنگ کا جو شیڈول جاری کیا ہے اس کے تحت روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ ان کے بقول یکم مئی کو جاری ہونے والے شیڈول کے مطابق دہی علاقوں میں آٹھ گھنٹے جبکہ شہری علاقوں میں چھ گھنٹے کی روزانہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے جاری کردہ شیڈول میں کوئی ردو بدل نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستان میں اس میں وقت بجلی کا شدید بحران ہے اور موسم گرما کے دوران بجلی کی زیادہ گھپت کی وجہ سے طویل لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جبکہ وفاقی وزیر بجلی و پانی راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ بجلی کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت کے پاس فوری وسائل دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیدوار بڑھانے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن فوری طور پر یہ کمی لوڈشیڈنگ سے ہی پوری کی جا سکتی ہے اور لوڈشیڈنگ پر فوری طور پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔ طاہر بشارت چیمہ کے بقول کہ پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر ساڑھے گیارہ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے جبکہ ملک میں ساڑھے چودہ سے پندرہ ہزار میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں موسم گرما میں بجلی کی اس طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے جہاں گھویلو صارف کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے وہاں صنعتی پیداوار اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں ۔ ماہرین کے مطابق گرمی میں شدت کے ساتھ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ جائے گا۔ان ماہرین کا کہنا ہے آئندہ ماہ جون میں گرمی کی شدت اور کم بارشوں کی وجہ سے جہاں بجلی کی گھپت میں اضافہ ہوگا وہاں بجلی کی پیداوار میں مزید کمی واقع ہوگی۔ان کی رائے میں اس صورت سے نمٹنےاور بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں مزید اضافہ کرنا پڑے گا جو کہ دس سے بارہ گھنٹے تک ہو سکتا ہے۔
حکومت پاکستان بجلی کے بحران کے مختلف حل تلاش کر رہی ہے جس میں ہفتہ میں دو چھٹیاں کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ماضی میں بجلی کی بچت کے لیے حکومت نے کاروباری مراکز رات آٹھ بجے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا جسے تاجر تنظیموں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ بجلی کے موجودہ بحران پر قابو پانے کے لیے بائیس سو میگا واٹ کے بجلی گھر کرائے پر حاصل کیے جا رہے ہیں جو اس سال کے آخر تک پیداوار شروع کر دیں گے۔ بجلی کے حالیہ بحران کی وجہ سے کاروباری مراکز کے علاوہ گھروں میں بھی جنریٹر کا استعمال بڑھ گیا ہے جبکہ شہروں میں آباد لوگ بجلی کے لیے متبادل طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔استعداد رکھنے والے شہری اب شدید گرمی سے بچنے کے لیے یو پی ایس کا سہارا لے رہے ہیں اور یو پی ایس کی مانگ میں اضافہ سے ان کی قمیتیں بھی دو گنی ہوگئیں ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے آبائی شہر ملتان میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف سینکڑوں محنت کشوں اور شہریوں نے مظاہرہ کیا جس کے دوران واپڈا کے دفتر، سرکاری بینک، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں ’اتحاد، عدلیہ، امریکہ یا روٹی کپڑا اور مکان‘ 11 May, 2008 | پاکستان ریٹائرڈ ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ29 April, 2008 | پاکستان ’حملہ جمہوریت کے خلاف سازش‘15 April, 2008 | پاکستان ’غریب کی آمدن وہی، خرچہ دوگنا ہوگیا‘15 April, 2008 | پاکستان بجلی بحران: کراچی میں لوڈشیڈنگ07 March, 2008 | پاکستان پاکستان میں بجلی کا شدید بحران04 January, 2008 | پاکستان سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج03 January, 2008 | پاکستان بجلی کے بھاری بل نے جان لے لی06 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||