BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 April, 2008, 14:32 GMT 19:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملہ جمہوریت کے خلاف سازش‘

راجہ پرویز اشرف (فائل فوٹو)
راجہ پرویز اشرف اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے
پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے سوموار کو ملتان میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے دفتر پر مشتعل ہجوم کے حملے کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے ان میں سابق حکومت میں شامل عناصر کے ملوث ہونے کا اشارہ دیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ملتان کو بجلی کی فراہمی کے ادارے میپکو پر حملے سے پہلے عوامی نمائندوں کے ساتھ میپکو افسران کے مذاکرات کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکے تھے کہ اچانک نا معلوم افراد نے سرکاری اور نجی املاک کی توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اس توڑ پھوڑ میں وہ لوگ ملوث ہیں جنہوں نے نو سال کے دوران ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے کا بندوبست کیا۔

راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ واپڈا کے دفتر پر حملہ جمہوری حکومت اور خود جمہوریت کے خلاف سازش ہیں جس میں ملوث عناصر کو وہ خوب پہچانتے ہیں۔ انہوں نے تنبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر ان جمہوریت مخالف سازشوں سے باز آجائیں ورنہ حکومت ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کو معلوم ہے کہ یہ سازشی عناصر اس طرح کے مزید واقعات کرنے کی کوشش کریں گے تاہم انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پر امن رہیں اور ان عوامل کی سازشوں سے با خبر رہیں۔

 حکومت نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے تین طرح کے اقدامات پر عمل کرنا شروع دیا ہے جن میں ایمرجنسی پلان اور وسط اور طویل مدتی پروگرام شامل ہیں۔
وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی

وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد صحافیوں کو اپنی وزارت کی کارکردگی کے بارے میں پہلی باقاعدہ بریفنگ دیتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ انہیں چارج لینے کے بعد جو پہلی اطلاع دی گئی وہ یہ تھی کہ ملک میں دستیاب بجلی ضرورت سے کہیں کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں بجلی کے کھپت بارہ ہزار میگاواٹ جبکہ پیدوار نو ہزار سے بھی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جتنی بجلی دستیاب ہے وہ سولہ گھنٹے کے استعمال کے لیے کافی ہے یعنی باقی آٹھ گھنٹے کے لیے بجلی موجود نہیں ہے۔

پانی و بجلی کے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے تین طرح کے اقدامات پر عمل کرنا شروع دیا ہے ان میں ایمرجنسی پلان اور وسط اور طویل مدتی پروگرام شامل ہیں۔ ایمرجنسی پروگرام کے تحت بجلی کی بچت کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں جس کے تحت کاروباری مراکز کو جلد بند کرنے اور ہفتے میں دو روزہ چھٹی کرنے کی تجاویز پر مختلف محکموں اور تنظیموں سے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں اور اس بارے میں حتمی فیصلہ بہت جلد کر لیا جائے گا۔ اس دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی جس میں شہری دیہاتی یا امیر غریب کی تفریق نہیں کی جائے گی۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈ نگ کے اوقات طے کرنے کے لیے ضلعوں کی سطح پر لوڈمینیجمنٹ کمیٹیز بنائی جائیں گی۔ اس کمیٹی میں واپڈا افسران کے علاوہ منتخب نمائندے اور کاروباری تنظیموں کے ارکان بھی شامل ہوں گے تاکہ اتفاق رائے سے لوڈشیڈنگ کا وقت طے کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وسط مدتی منصوبے کے تحت اگلے ایک برس میں کرائے کے بجلی گھروں سے دوہزار میگا واٹ بجلی کا حصول شروع ہو جائے گا جبکہ تین برس میں ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس دوران بڑے ڈیم بنانے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد