BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 April, 2008, 14:16 GMT 19:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملتان میں ہنگامہ آرائی، 50 گرفتار

ملتان ہنگامے
مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے سیکورٹی گارڈز نے ہوائی فائرنگ کی
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے آبائی شہر ملتان میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف سینکڑوں محنت کشوں اور شہریوں نے مظاہرہ کیا جس کے دوران واپڈا کے دفتر، سرکاری بینک، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو آگ لگادی گئی۔

پولیس نے ان ہنگاموں میں ملوث ہونے کے الزام میں پچاس افراد کو گرفتار کیا ہے۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف پاور لومز ایسوسی ایشن نے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر رکھا تھا۔


پاورلومز ایسوسی ایشن کے اعلان پر محنت کشوں نے ملتان شہر میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں عام شہری بھی شامل ہوگئے۔ مظاہرین نے ڈنڈے اٹھا رکھے تھے اور وہ واپڈا کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔

احتجاج کے دوران مظاہرین مشتعل ہوگئے جس کے بعد توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑک کو عام ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’بجلی دو یا موت دو‘ جیسی عبارت درج تھی۔

مظاہرین کے پرتشدد احتجاج کے سامنے انتظامیہ بے بس نظر آئی اور تمام علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔ مظاہرین نے واپڈا کے دفتر، ایک سرکاری بینک، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگادی۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے ملتان کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے میپکو کی عمارت پر پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

اگرچہ پولیس موجود تھی لیکن تعداد کم ہونے کی وجہ سے بے بس نظر آئے۔ تاہم مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے سکیورٹی گارڈز نے ہوائی فائرنگ کی۔ نفری آنے پر پولیس نےبگڑتی ہوئی صورت پر حال پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کی اور آنسو گیس کا استعمال کی جس پر مظاہرین منشتر ہوگئے۔

 ہنگامہ آرائی کرنے پر پچاس افراد کو حراست میں لیا گیاہے اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے
ریجنل پولیس آفیسر محمد علی
ریجنل پولیس آفیسر محمد علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے پر پچاس افراد کو حراست میں لیا گیاہے اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت نقصان کا تخمینہ لگانا مشکل ہے۔

پاور لومز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بجلی کی چوبیس میں سے سولہ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ان کا کاروبار تباہ ہوگیا ہے اور ایکسپورٹرز نے بروقت مال تیار نہ ہونے پر ان کے آرڈر منسوخ کردیئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد