بجلی کے بھاری بل نے جان لے لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد میں ایک گھریلو خاتون نے بجلی کے استعمال کا بھاری اور غلط بل آنے کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کرخودکشی کرلی۔ شہر کی قریبی بستی لیاقت کالونی کی رہائشی چالیس سالہ زرینہ کو حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) نے ڈٹیکشن لگا کر بہتر ہزار روپے کا بل بھیج دیا تھا۔ ڈٹیکشن بل بجلی کی چوری یا بجلی کے میٹر میں مداخلت کرنے پر جاری کیے جاتے ہیں اور حیسکو قوانین کے مطابق یہ بل مجموعی طور پر تین ماہ کے بل کی رقم کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن اس گھریلو صارف کو بجلی کی کمپنی نے کئی گنا زیادہ بل بھیج دیا جو کہ اس کی بساط سے کہیں زیادہ تھا۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ چالیس سالہ زرینہ اس بل کو درست کرانے کے لیے متعلقہ دفتر کا کئی مرتبہ چکر کاٹتی رہی لیکن اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ واقعے کی رات کو میاں بیوی کے درمیان بجلی کے بل کے حوالے سے تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔ بدھ کو زرینہ نے دل برداشتہ ہو کر قریب ہی بہنے والے پھلیلی کینال میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ مقامی غوطہ خوروں کے گروپ نے دو گھنٹے کی تگ ودو کے بعد لاش کینال سے برآمد کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زرینہ کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ واقعہ کے بعد علاقے کے لوگوں نے یونین کونسل کے ناظم یونس راجپوت کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیااور رکاوٹیں کھڑی کرکے علاقے کی سڑک کو بلاک کردیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کسی طور پر بھی اتنا بھاری بل کسی غریب صارف کے لئے نہیں آ سکتادوسری جانب حیسکو کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ زرینہ نے گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے خود کشی کی ہے ، اس کا بجلی کے بل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کراچی کے سوا سندھ بھر میں بجلی فراہمی حیسکو کرتی ہے۔ صارفین کو بلوں اور اس کی کارکردگی کے حوالے سے شکایات آئے دن کا معمول ہیں۔ اس سلسلے میں صوبے کے کسی نہ کسی شہر میں صارفین احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ حیسکو کے ایک اہلکار کے مطابق تیس فیصد صارفین پر ڈٹیکشن بل لگائے جاتے ہیں یا پھر اضافی یونٹ چڑھا دیئے جاتے ہیں۔ ایک ریٹائرڈ ملازم کا کہنا ہے کہ بجلی کے نئے شفاف اور سفید میٹروں کی رفتار کچھ تیز رکھ دی جاتی ہے۔ تاہم حیسکو حکام ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں پشاور میں فسادات، ایک ہلاک16.09.2002 | صفحۂ اول سستی بجلی اور جمعہ کی چھٹی05.12.2002 | صفحۂ اول بجلی کی قیمت میں کمی10.12.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||