BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 April, 2008, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریٹائرڈ ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

وزیراعلٰی
کنٹریکٹ پر کام کرنے والے فنی ماہرین کے مستقبل کا فیصلہ وزیراعلٰی کریں گے
سندھ حکومت نے گریڈ ایک سے بائیس کی آسامیوں پر تعینات ریٹائرڈ ملازمین کی ملازمت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے پر فوری عملدرآمد ہوگا تا کہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

کراچی میں منگل کو صوبائی کابینہ کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں
گریڈ ایک سے لے کر گیارہ تک کے تین سو سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کی فوری طور پر ملازمتیں ختم کی گئیں جبکہ گریڈ بارہ سے بائیس تک کے ملازمین کی تفصیلات جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراطلاعات شازیہ عطا مری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس فیصلے سے جو لوگ تجربہ کار نہیں ہیں مگر بیروزگار ہیں ان کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔ان کے مطابق جہاں فنی ماہرین کی ضرورت ہے وہاں اگر ریٹائرڈ ملازمین مقرر ہیں تو ان کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کا اختیار وزیرِ اعلیٰ کو حاصل ہوگا۔

شازیہ مری نے بتایا کہ اجلاس میں بڑے عہدوں پر تعینات نچلے گریڈ کے ملازمین کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا مگر ضلعی پولیس اور انتظامی افسران اس سے مستثنیٰ ہوں گے کیونکہ امن امان کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں ان کے لیے سنیارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔

سندھ کی وزیر اطلاعات شازیہ مری نے صحافیوں کو بریفنگ دی

سندھ اسمبلی کی قرار داد کے تحت نوابشاہ ضلع کا نام بینظیر بھٹو سے منسوب کرنے کے حوالے سے لوکل باڈیز آرڈیننس میں ترمیم کی گئی، جس کے بعد صوبائی اسمبلی کی قرار داد کے بعد حکومت ایک حکم نامے کے ذریعے ضلع یا تحصیل کا نام تبدیل کرسکے گی۔

صوبائی حکومت نے کئی سالوں سے التویٰ کا شکار تھر کے کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے پر ہنگامی بنیادوں پر سیاسی جذبے سے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ شازیہ مری کے مطابق بجلی کے منصوبے کے لیے واپڈا سے رابطہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پراجیکٹ سندھ میں ہے اس لیے آئینی طور پر اس پر سندھ کا حق بنتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سابق دور حکومت میں جعلی کمپنیاں بناکر اس منصوبے میں بدعنوانیاں کی گئیں ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سے مذاکرات اورشراکت اقتدار کے حوالے سے کابینہ میں کوئی بات نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد