سندھ میں پیپلز پارٹی کو پہلا چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ اپریل کی ایک عام صبح تھی جب شہباز رینجرز کےمیجر محمد امین صبح کی نماز کے بعد اپنے ہیڈکوارٹر کےقریب ائرپورٹ روڈ پر سیر کے لیے نکلے۔انہوں نےٹریک سوٹ پہنا ہوا تھاان کے پاس موبائل تھا نہ پیسوں کا بٹوا اور ان کے ہمراہ کوئی محافظ بھی نہ تھا۔ وہ سڑک پر سیر کر رہے تھےکہ اچانک ایک سفید رنگ کی گاڑی میجر کےقریب رکی، مسلح افراد گاڑی سے اترے اور میجر محمد امین اس صبح سے لاپتہ ہیں۔ میجر محمد امین کا اغواء سندھ میں اغواء کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ میجر امین پہلے فوجی ہیں جن کو اغواء کیا گیا ہے۔ رینجرز نے اپنے ایک افسر کے اغواء سے متعلق پریس سے بات چیت کرنے سے تو اجتناب کیا ہے مگر رینجرز کےانسپکٹر محمد امجد کی طرف سے ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ میجر محمد امین اغواء سے صرف دو روز پہلے ہی اپنی آبائی علاقے سرگودھا سے چھٹیاں گزار کر سکھر واپس پہنچے تھے۔ میجر کے اغوا سے دو ہفتے پہلے سکھر کی ایک اور سڑک پر نماز کےبعد سیر پر نکلے ہوئے صرافہ بازار کے بیوپاری محمد اکرم کو گاڑی میں سوار نا معلوم مسلح افراد نے بلکل اسی طرز پر اغوا کیا تھا ۔پولیس کو ان کاسراغ مل سکا ہےنہ میجر محمد امین کا۔ سکھر شہر میں میمن کمیونٹی سے وابستہ پانچ افردا تبلیغی اجتماع سے واپسی پر اغوا کیےگئے۔پانچ میمنوں کی اغوا کو تیس دن ہونے والے ہیں مگر پولیس کو ان کا سراغ نہیں ملا اور شہر میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ پانچ مغوی میمنوں نے ڈاکؤں سے پچیس لاکھ میں معاملہ طے کر لیا ہے اور انہیں ایک دو روز میں رہائی نصیب ہونے والی ہے۔
دریائے سندھ کے دونوں کناروں سے گھنے جھنگلات میں چھپے ڈاکو چینی انجنیئر بھی اغوا کر چکے ہیں مگر پاکستان کےکسی قانون نافذ کرنے والےادارے کےمیجر کی اغوا کا یہ پہلا واقعہ ہے جس نے سندھ کی وزارت داخلہ کے لیے ایک بہت بڑا چیلینج کھڑا کر دیا ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذولفقار مرزا کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح صوبے میں امن امان برقرار رکھنا ہےمگر ہر جرم کے پیچھے کسی نہ کسی بااثر کا ہاتھ رہتا ہے اور ان کےپولیس افسران کی ٹیم جرم کو جڑ سے ختم کردی گی۔ سندہ میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد پولیس افسران کی بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں ہوئی ہیں۔اندرون سندھ میں چند ایسے پولیس افسران کو تعنیات کردیا گیا ہے جنہیں سندھی پریس میں ایماندر پولیس افسران کہا جاتا ہے مگر اس کے باوجود اندرون سندھ میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں حالیہ دنوں کےدوران اضافہ ہوا ہے۔ سکھر کےڈی آئی جی پولیس بشیر میمن نے اس عام تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا میجر کی جلد بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور دیگر مغوی بھی جلد بازیاب کروائے جائیں گے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بالائی سندہ میں اغواء برائےتاوان کو روکنے کے لیے پولیس افسران کی ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں تا کہ اس جرم کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ سندہ میں اغوا برائے تاوان کے میں ملوث ڈاکؤں کےگروہوں کی نوے کی دہائی میں ایک فہرست بنائی گئی تھی اور ان ڈاکؤں کی پشت پناہی کرنے والے بااثر لوگوں کےناموں پر مشتمل ’بڑی مچھلیوں‘ کے نام جاری کیے گئے تھے جس میں مسلم لیگ قاف اور پیپلزپارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے وڈیرے شامل تھے۔ سندہ کی نئی حکومت کیا ان بڑی مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے جال بچھانے والی ہے؟ اس کے جواب میں وزیرداخلہ ڈاکٹر ذولفقار مرزا کا کہنا تھا کہ سندہ میں امن امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے جائیں گے۔ | اسی بارے میں سندھ: ’ریٹائرڈ‘ ڈاکوؤں کی جاگیر01 October, 2004 | پاکستان ’گھر والوں نے تیرہ ڈاکو مار دیے‘10 February, 2008 | پاکستان ڈاکو دس قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گئے 10 September, 2005 | پاکستان سندھ:تین ایڈِشنل سیشن جج اغوا03 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||