برسوں بعد بھی وعدے وفا نہ ہوئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے ایک پسماندہ علاقے میں لوگوں کو شکایت ہے کہ فوجی فاؤنڈیشن کےزیرانتظام گیس کمپنی کروڑوں کا منافع کما رہی ہے لیکن مقامی لوگوں کو اس منصوبے کا فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ فوجی فاؤنڈیشن کےزیرانتظام ماڑی گیس کمپنی پاکستان کی دوسری بڑی گیس فیلڈ صوبہ سندھ کےعلاقے ڈہرکی ضلع گھوٹکی میں واقع ہے۔ مقامی افراد نےالزام لگایا ہے کہ کمپنی ان کے حقوق کا احترام نہیں کرتی۔ تہتر سالہ کامریڈ ماندہل شر ماڑی گیس کمپنی سے اپنے حقوق مانگنے کی تحریک کے سربراہ ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’گیس کمپنی والے زمینوں میں دریافت کیے گئے گیس ذخائر سےکروڑوں کا منافع کماتے رہے ہیں مگر مقامی افراد کو زمینوں کا معاوضہ دینے سے انکاری ہیں۔ ہم لوگ علاقے میں سکول، ہسپتال اور ملازمتوں کےلیے برسوں سےمنتظرہیں۔، کامریڈ ماندہل شر نے نئی منتخب حکومت سے امید لگا رکھی ہے کہ وہ گیس کمپنی سے ان کےمطالبات تسلیم کروانے اور معاہدے پر عمل درآمد کروانےمیں مدد فراہم کرے گی۔ سنہ دو ہزار تین میں کامریڈ ماندہل شر کی سربراہی میں مقامی افراد کی جدوجہد کےدوران سینتیس دن شر برادری کےایک سو کےقریب دیہات پو لیس اور رینجرز کے محاصرے میں رہے۔ اس دوران ماڑی گیس کا کام معطل رہا۔ شر برادری کا کہنا ہے کہ محاصرے کےدنوں میں ادویات نہ ملنے کی وجہ سےایک عورت اور تین بچے فوت ہوگئے تھے۔ شر برادری اور ماڑی گیس کمپنی کے درمیان پانچ سال قبل ایک انیس نکاتی معاہدہ طے پایا تھا جس کے امین ضلعی ناظم گھوٹکی سردار علی گوہر مہر بنے تھے۔مگر ماندہل شر کے مطابق گیس کمپنی نےاس معاہدے کی کبھی پاسداری نہیں کی ۔
کامریڈ ماندہل شر کا کہنا ہے کہ جب سےماڑی گیس کا انتظام فوجی فاؤنڈیشن نے سنبھالا ہے مقامی لوگوں کو مراعات دینا تو دور کی بات ہمیں اپنی زمینوں میں قائم گیس فیلڈز کےدروازوں پر کھڑے نہیں رہنے دیا جاتا۔ ماڑی گیس کمپنی ڈہرکی کے ریزیڈنٹ مینجنگ ڈائریکٹر کرنل امجد اور مینیجر ایڈمنسٹریشن کرنل حدیق سے بی بی سی کی طرف سے دو بار رابطہ کیا گیا مگر دونوں حضرات کے سیکریٹریز کا کہنا تھا کہ وہ مصروف ہیں اس لیےبات چیت ممکن نہیں۔ ماڑی گیس کمپنی کو انیس سو ستاون میں اس علاقے میں گیس کےذخائر ملے تھے۔ ماڑی گیس کمپنی کی ویب سائٹ کےمطابق دس بلین روپےسالانہ قومی خزانے میں اضافہ کرنے والی ماڑی گیس کمپنی کے چالیس فیصد شیئرز بشمول انتظامی حقوق فوجی فاؤنڈیشن کے پاس ہیں۔ بیس فیصد حکومت پاکستان، بیس فیصد آئل اینڈ گیس ڈویلیپمنٹ کمپنی یعنی او جی ڈی سی اور بیس فیصد مقامی عام افراد کی حصہ داری ہے۔ ماڑی گیس کمپنی کے چودہ اراکین پر مشتمل بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مقامی افراد بھی شامل ہیں مگر کمپنی کی ویب سائٹ پر ان مقامی افراد کی شناخت واضح نہیں۔ علاقےمیں ترقیاتی کاموں کےحوالے سے ماڑی گیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے علاقے میں دو سو نوے کلومیٹر کچی سڑکیں اور باون پکی سڑکیں تعمیر کی ہیں۔
گیس کمپنی کے خلاف شر برادری کی جدوجہد میں عورتوں کی نمائندگی نمایاں ہے۔کامریڈ ماندہل شر کی بیٹی زرقا شرکا کہنا ہے کہ گیس کمپنی علاقے میں عورتوں اور بچوں کےلیے صحت کی سہولیات فراہم نہیں کرتی۔ علاقے کی دو تین عورتیں ہر ماہ دوران حمل بروقت طبی امداد نہ ملنےکی وجہ سے فوت ہوجاتی ہیں۔ ڈہرکی کےصحرائی علاقے میں ماڑی گیس کمپنی کا ایک ہفتہ وار مفت کلینک موجود ہے جہاں ہر منگل کو ایک لیڈی ڈاکٹر پہنچتی ہے مگر زرقا شر کے مطابق ’وہ دوائی ایسی دیتی ہے کہ کوئی اثر نہیں ہوتا علاقےمیں ہم اسے منگل والی دوائی کہتے ہیں تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اس سے فائدہ نہیں ہونے والا۔‘ گیس ذخائر سے مالا مال ڈہرکی کا صحرائی علاقہ سندھ کا پسماندہ علاقہ ہے جہاں لڑکیوں میں شرح تعلیم صفر ہے جبکہ لڑکوں میں یہ بمشکل پانچ فیصد ہے۔ کامریڈ ماندہل شر کا کہنا ہےکہ اگر گیس کمپنی انتظامیہ نے معاہدے پر عمل نہ کیا تو وہ اپنےعلاقوں میں انہیں گیس ذخائر پر کام نہیں کرنے دیں گے۔ان کو علاقے میں چلنے نہیں دیں گے اور ان کے درمیاں دو ہزار تین جیسا تصادم ہوسکتا ہے۔ پاکستان انیرجی اِیئر بُک دو ہزار چھ کے مطابق پاکستان کی گیس پیداوار کا ستر فیصد حصہ صوبہ سندھ کے ذخائر پر مشتمل ہے۔ پاکستان کے ایک سو چالیس گیس ذخائر میں سے ایک سو سات صوبہ سندھ میں موجود ہیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم پارٹیسپٹری ڈویلپمنٹ انیشیئٹو(پی ڈی او) کے ماہر اسحاق سومرو کا کہنا ہے کہ ’ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کے مطابق ملکی اور غیر ملکی گیس کمپنیوں کو اپنی پیداورا کا ایک مخصوص حصہ مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود اور علاقے کی ترقی پر خرچ کرنا لازم ہے مگر سندھ میں گیس کمپنیاں یہ سماجی ذمہ داری نبھانےسےگریزاں ہیں جبکہ وہ صدر مملکت کےاکاؤنٹ میں پروڈکشن بونس کےنام سے کروڑوں کی رقم جمع کرواتے ہیں۔‘ ماڑی گیس کمپنی کےمتاثرہ افراد کے رہنماء کامریڈ ماندہل شر کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے پانچ سال قبل جدوجہد کےدوران ان کی حمایت کی تھی اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار میں گیس کمپنی کو معاہدے پر عملدرآمد کے لیے مجبور کریں۔ | اسی بارے میں پونےدولاکھ کنال کی فوجی سوسائٹیاں21 April, 2005 | پاکستان بلوچستان: بڑے بحران کا خطرہ22 March, 2005 | پاکستان بلوچستان اور ’گریٹ گیم‘25 April, 2005 | پاکستان کرک: گیس کی ترسیل، حقیقت کا روپ22 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||