کرک: گیس کی ترسیل، حقیقت کا روپ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرسبز وادیوں اور وسیع ریتیلے علاقے پر مشتمل ضلع کرک گیس اور تیل کے علاوہ دیگر کئی زیرِ زمین قدرتی و سائل سے مالا مال ہے۔ بائیس کروڑ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کی بدولت ضلع کرک میں منزلی کے علاقے میں دریافت ہونے والے قدرتی گیس کے ذخائر سے تجارتی بنیادوں پر استفادہ جنوری دو ہزار پانچ میں شروع ہوا جبکہ مکوڑی کے مقام پر لگے گیس فیلڈ نے تجارتی بنیادوں پر سرگرمیوں کا آغاز جنوری دو ہزار چھ میں کیا۔ اس طرح ان دو علاقوں سے حاصل ہونے والی قدرتی گیس ملک کے اُن حصوں میں مہیا کی جانے لگی جہاں گیس کی ترسیل کا باقاعدہ نظام پہلے سے موجود تھا۔ کرک میں قدرتی گیس کے حامل علاقوں میں بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں نے علاقے کے عوام میں سہولیاتِ زندگی کے فقدان کی وجہ سے جہاں ایک بھر پور ردِعمل کو اُبھارا، وہیں لوگوں کے لیے یہ احساس کرب کا باعث تھا کہ اُن کے علاقے سے حاصل ہونے والے قدرتی وسائل سے اُن کو تو کوئی فائدہ نہیں لیکن دوسرے علاقوں کے لوگ اُن کے وسائل سے مستفید ہو رہے ہیں۔ عوامی ردِعمل کی وجہ بتاتے ہوئے گُرگُری یونین کونسل کے ناظم حکم بادشاہ نے کہا کہ اُن کے علاقے کے لوگ بلوچستان کے حالات سے بخوبی واقف تھے جہاں قدرتی گیس دریافت ہونے کے باوجود گیس کی سہولت ملک کے دوسرے علاقوں کے بہت بعد مہیا کی گئی۔ گیس کی ترسیل کے حوالے سے مطالبہ کے حق میں گُرگُری اور اس سے ملحقہ دیہاتوں کے عوام نے عام گاڑیوں اور گیس فیلڈ کے افسران کے زیرِ استعمال گاڑیوں کے لیے علاقے سے گزرنے والی سڑکیں کئی بار بند کیں۔ بلآخر آٹھ ماہ قبل جب اُن کے گاؤں اور اس سے ملحقہ ایک دوسرے گاؤں کو گیس کی ترسیل شروع ہوئی تو حکم بادشاہ کے مطابق اُن کے گھر کی خواتین سمیت علاقے کی دوسری کئی خواتین کو یہ اندازہ نہ تھا کہ دیا سلائی جلاتے ہی چولہے سے آگ کا شعلہ ایک دم بھڑکے گا اور یہ کہ ایسی صورت میں اُن کے جھلسنے کا بھی خطرہ ہے۔ ’ایک مرتبہ تو میری گھر والی آگ کی لپیٹ میں آتے آتے بچی‘، حکم بادشاہ نے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
اُن کے جوان سال بھتیجے نےدو کمروں پر مشتمل حُجرے (پشتون گھروں میں مرد مہمان خانے) میں دیواروں پر لگے گیس کے ہیٹروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی ترسیل شروع ہونے کے بعد سے اُن کی زندگی میں گزشتہ سردیوں میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہوئی۔ ’سردیاں بڑی مزے سےگُزریں۔ کمرے ہر وقت گرم ہوتے تھے اور ہاتھ منہ دھونے کے لیے ہر وقت گرم پانی دستیاب تھا۔ سردی کا پتہ ہی نہیں لگا‘۔ دو دیہاتوں کو گیس کی ترسیل کے بعد قریب ہی واقع دیگر دیہاتوں میں بھی گیس کی ترسیل کے حوالے سے مطالبہ نے زور پکڑا جس کے بعد مقامی اور صوبائی حکومتوں نے تقریباً ایک سال قبل تیس سے زائد دیہاتوں کو گیس فراہم کرنے سے متعلق مطالبہ مانتے ہوئے کروڑوں روپے کی لاگت سے ایک منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ زیرِ زمین پائپوں کے ذریعے گیس کی ترسیل کے لیے سڑکوں کے کنارے میل ہامیل زمین کھودی گئی اور پائپوں کے انبار کے انبار جگہ جگہ لگائے گئے لیکن اس سے آگے کام کی رفتار اس قدر سست کہ عوام کو حکومت کا اعلان کسی انتخابی نعرے سے زیادہ نہ لگا۔ اس تناظر میں عوام نے متواتر حکومت پر دباؤ ڈالے رکھا، کبھی سڑکیں بند تو کبھی بیرونی سرمایہ کاری سے لگائے گئے آئل اینڈ گیس فیلڈز کی گاڑیوں کا راستہ روکا گیا اور ساتھ ہی ساتھ اخباروں میں حکومت مخالف بیانات کا سلسلہ بھی باقاعدگی سے جاری رکھا گیا جس کے بعد آخر کار صوبائی وزیرِاعلیٰ اکرم خان درانی نے حال ہی میں اعلان کیا کہ صوبائی حکومت کو تیل اور گیس کی مد میں حاصل ہونے والی سالانہ آمدن میں سے ہر سال پانچ فیصد کے برابر حصہ تیل اور گیس کی پیداوار کے حامل علاقوں کی ترقی پر لگایا جائے گا۔ صوبائی حکومت کے محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق مالی سال دوہزار سات اور آٹھ کے دوران صوبہ سرحد کو دو ارب اور اکاون کروڑ روپے تیل اور گیس کی رائلٹی اور گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج کی مد میں حاصل ہوں گے جس میں سے پانچ فیصد رقم تیل اور گیس کے حامل علاقوں کی ترقی کے کاموں پر صرف کی جائے گی جن میں گیس کی ترسیل سرِفہرست ہے۔ البتہ مختلف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومتی وعدوں کے حوالے سے کچھ خاص گرم جوشی کا اظہار نہ کیا۔ ٹیری کے رہائشی عثمان ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ’ہم اعلانات سے زیادہ وعدوں پر عمل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں‘۔ عبدل حفیظ کا کہنا تھا کہ علاقے کے ہر گھر کو گیس ملنی چاہیے’ کیونکہ یہ ہمارے وسائل ہیں اور سب سے پہلے ہمارا ان پر حق ہے‘۔ حکومت کے اعلیٰ ذرائع صوبائی حکومت کے اس اعلان کو، کہ تیل و گیس کی مد میں حاصل ہونے والی سالانہ آمدن میں سے پانچ فیصد رقم تیل و گیس کی پیداوار کے حامل علاقوں کی ترقی پر لگائی جائے گی، اہمیت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ صوبائی حکومت کی سالہاسال سے جاری حکمتِ عملی میں اہم تبدیلی کے مترادف ہے۔ ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا کہنا تھا کہ ’اس حکمتِ عملی کے آنے والے سالوں اور آئندہ حکومت پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے جن علاقوں میں بڑے ڈیم بناکر اور پانی کے ذریعے بجلی بنانے کے منصوبے کام کر رہے ہیں ان علاقوں کو آج تک کوئی اضافی مالی فائدہ نہیں دیا گیا حالا نکہ صوبائی حکومت کو ان منصوبوں سے سالانہ اربوں روپے کی آمدن ہوتی ہے۔ صوبہ سرحد کے ضلع ہری پور میں تربیلہ کے مقام پر پانی کی بڑی مقدار ذخیرہ کرنے اور بجلی گھروں سے پیدا ہونے والی بجلی سے صوبائی حکومت کو سالانہ چھ ارب روپے آمدن ہوتی ہے لیکن اس رقم میں سے ضلع ہری پور کو آج تک خصوصی طور پر علیحدہ سے کچھ نہیں دیاگیا۔ |
اسی بارے میں ’بجلی کا کنٹرول صوبے کودیاجائے‘22 June, 2006 | پاکستان سرحد: 20 کروڑ کی امداد کا مطالبہ29 June, 2007 | پاکستان بجلی معطل: سرحد، مظاہرے گرفتاریاں 25 September, 2006 | پاکستان صوبۂ سرحد کا مرکز سے مطالبہ17 June, 2007 | پاکستان ’سرحد کا بجٹ عوام دوست ہوگا‘09 June, 2007 | پاکستان گیس پائپ لائن اڑا دی گئی29 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||