BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2004, 12:41 GMT 17:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قلات کو بالآخر گیس فراہم ہوگی

قلات
قلات بلوچستان کا ایک تاریخی علاقہ ہے

بلوچستان میں گیس کے قدرتی ذخائر اور گیس کی پیداوار کے باوجود اس صوبے کے ایک اہم ترین اور تاریخی شہر قلات کو گیس اب فراہم ہوگی۔

بلوچستان کے شہر سوئی سے انیس سو باون میں گیس کی پیداوار شروع ہوئی تھی لیکن کوئٹہ کو نوے کی دہائی میں اور اب قلات کو دو ہزار پانچ میں گیس کی فراہمی شروع ہو گی۔

پاکستان بننے سے پہلے قلات ایک خود مختیار ریاست تھی جو لگ بھگ موجودہ پورے صوبہ بلوچستان کے برابر رہی ہے۔

ریاست قلات کی اپنی کرنسی بھی ہوا کرتی تھی اور اس کے سربراہ کو خان آف قلات کہا جاتا رہا ہے جو سرداروں کے سردار بھی کہلاتے ہیں۔

قلات کا پرانا شاہی محل
قلات کا پرانا شاہی محل

قلات بلوچستان کا پانچوان شہر ہے جہاں گیس یعنی صوبے کی اپنی پیداوار منتوں اور سماجتوں کے بعد فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈیرہ بگتی جہاں سے یہ گیس پیدا کی جا رہی ہے تاحال گیس کی سہولت سے محروم ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق آٹھ انچ قطر کی نوے کلومیٹر لمبی پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے جس پر سینتالیس کروڑ روپے لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ فروری دو ہزار پانچ میں مکمل ہوگا۔ اس منصوبے سے یہاں کی باسٹھ ہزار سے زائد آبادی مستفید ہو گی۔

گیس کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے علاقے کے قریب ہربوئی کے مقام پر صنوبر کے جنگلات کو نقصان لا حق تھا اس کے علاوہ بجلی بھی زیادہ استعمال ہو رہی تھی کیونکے شدید سردی میں گرمی حاصل کرنے کے لیے اور کوئی ذریعہ نہیں ہے

بدھ اکیس جنوری کو گیس کی فراہمی کے افتتاح کے موقع پر علاقے میں خوشی کا سماں تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے اور سب سے بڑھ کر علاقے کے منتخب نمائندگان جو اس موقع کو اپنی فتح سمجھ رہے تھے فخری انداز میں پنڈال میں گھوم رہے تھے اور ہر ایک سے مصافحہ کر رہے تھے۔ وزیراعظم ظفراللہ جمالی بھی مغرور نظر آرے تھے جیسے یہ علاقے کے لوگوں پر احسان کر رہے ہوں انھیں ان کا حق نہ دے رہے ہوں۔

قلات سطح سمندر سے کوئی نو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ایک خوبصورت شہر ہے۔ ارد گرد سفید چاندی کی طرح چمکتی برف سے ڈھکی پہاڑیاں اور سیب کے باغات اس کے حسن کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ سردیوں میں یہان درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے رہتا ہے چونکہ بلوچستان بھر میں پسماندگی اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں لہذا قلات کے لوگ بھی زیادہ خوشحال نہیں ہیں۔ زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی سے منسلک ہیں اور یہاں ہندو بھی کافی تعداد میں آباد ہیں جن کا پیشہ تجارت سے وابستہ ہے۔

سیاسی حوالے سے اس علاقے میں قوم پرستوں کو ایک خاص مقام حاصل ہے لیکن گزشتہ انتخابات میں یہاں قومی اور صوبائئ نشست متحدہ مجلس عمل کے مولانا غفور حیدری اور پرنس فیصل نے حاصل کی ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے قائدین کے مطابق ان کی جماعت کا اثر رسوخ قوم پرست علاقوں میں پھیل رہا ہے کیونکہ لوگ اب سرداری نظام کو اور قوم پرستی کو پسند نہیں کرتے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد