BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 July, 2008, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سی این جی نرخوں کا بحران جاری

سی این جی
حکومت نے سی این جی کی قیمت کے تعین کا اختیار اوگرا کے سپرد کر دیا
اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے سی این جی کی قیتموں کے تعین کا اختیار منگل کے روز تیل و گیس کے ادارے اوگرا کے سپرد کرنے کے اعلان کے باوجود گزشتہ دو ہفتوں سے جاری نرخوں کا بحران حل ہونے کے امکانات کم لگتے ہیں۔

گاڑیوں کے لیے سی این جی فروخت کرنے والوں کی ملک گیر تنظیم نے حکومت کی جانب سے سی این جی کی قیمتوں کے تعین کا اختیار تیل و گیس کے ادارے اوگرا کو سپرد کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔

دو ہفتے قبل سی این جی کی قیمتوں کے تعین پر پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد منگل کے روز وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سی این جی کی قیمت کے تعین کا اختیار اوگرا کے سپرد کر دیا جائے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سی این جی ایسوسی ایشن کے ایک سینئر عہدیدار عبدالسمیع نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر حکومت نے اس نئے نظام کی آڑ میں سی این جی مالکان کے نفع کی شرح کم کرنے کی کوشش کی تو اس پر بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ منگل کے روز انہوں نے وزارت پٹرولیم میں متعلقہ افسران سے ملاقاتیں کر کے اپنا مؤقف حکومت تک بھی پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ اوگرا کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ سی این جی مالکان کی تنظیم کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی نرخوں کا تعین کرے۔

عبدالسمیع کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومتی اہلکاروں کو بتا دیا ہے کہ انہیں اوگرا کے اس نئے کردار پر اعتراض نہیں ہے لیکن اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے وہ تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں نئے طریقہ کار کے اعلان کے فوری بعد وہ اپنی تنظیم کی جنرل باڈی کے اجلاس میں حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔

ادھر اوگرا ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ وزارت پٹرولیم کے حکمنامے کا اتنظار کر رہے ہیں جس کی روشنی میں قیمتوں کے تعین کا نیا فارمولا طے کیا جائے گا۔ اس نئے فارمولے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کے لیے اوگرا کے چیئرمین منیر بھی لاہور ہی میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سی این جی فروخت کرنے والوں کے نفع کی شرح میں کمی لا کر ہی سی این جی کی قیمتوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ موجودہ نرخوں کے تحت سی این جی مالکان بعض صورتوں میں ایک سو فیصد تک نفع کما رہے ہیں، جو صارفین کے ساتھ سرا سر زیادتی کے مترادف ہے۔

اس دوران ملک بھر کے سی این جی سٹیشنز تینتالیس روپے فی کلو کی مقرر کردہ قیمت کے بجائے من مانے نرخوں پر گیس فروخت کر رہے ہیں۔ بعض سٹیشنز اب بھی یہ گیس انچاس روپے تک فروخت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ وزارت پٹرولیم نے تیس جون کو قدرتی گیس کے نرخ میں اکتیس فیصد اضافے کے ساتھ سی این جی کی قیمت میں بارہ روپے اضافے کی اجازت دی تھی جسے اگلے روز کم کر کے پانچ روپے کیا گیا تھا۔ تاہم بیشتر سٹیشنز آج بھی اس ابہام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ نرحوں پر گیس فروخت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
سی این جی غائب، عوام پریشان
31 January, 2008 | پاکستان
سی این جی کے مالکان پریشان
17 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد