BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 July, 2008, 22:18 GMT 03:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈیزل پر سبسڈی دینا مشکل ہے‘

پٹرول
حکومت اب تک ڈیزل اور مٹی کے تیل پر دو سو ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے چکی ہے
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت کو کم رکھنے کے لیے دی جانے والی سبسڈی کو زیادہ مدت تک جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ عالمی مالیاتی اداروں سے کیے جانے والے معاہدوں کے تحت حکومت تمام سبسڈیز ختم کرنے کی پابند ہے۔

پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی سیکرٹری جی ای صابری نے منگل کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ موجودہ حکومت اب تک ڈیزل اور مٹی کے تیل پر دو سو ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے چکی ہے۔

جی اے صابری نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے حکومت نئے فارمولے کی تیاری پر غور کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے قومی تعمیر نو بیورو کے سربراہ ڈاکٹر عاصم کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی جاچکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے فارمولے پر عمل کرنے سے تیل کی قیمتوں میں دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا ڈیزل کی قیمت کو کم رکھنے کے لیے جو سبسڈی دی جا رہی ہے اسے زیادہ مدت تک جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ عالمی مالیاتی اداروں سے کیے جانے والے معاہدوں کے تحت حکومت تمام سبسڈیز ختم کرنے کی پابند ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ سبسڈی ایک ارب روپے روزانہ ہے لیکن اگر اس میں سے ان مصنوعات پر عائد جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کو منہا کر لیا جائے تو بھی ہر ماہ حکومت سترہ ارب روپے کی نیٹ سبسڈی ڈیزل اور مٹی کے تیل کے لیے ہر ماہ ادا کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تیل کی مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ سے لازمی طور پر متاثر ہوں گی کیونکہ پاکستان میں استعمال ہونے والی ان مصنوعات کا پچاسی فیصد درآمد کیا جاتا ہے۔

تاہم ان بڑھتی قیمتوں کو کسی حد تک ریگلولیٹ کرنے کے لیے حکومت ان کی قیمت کا تعین کرنے کے لیے نئےفارمولے پر عمل کرے گی۔

جی اے صابری نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے حکومت نئے فارمولے کی تیاری پر غور کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے قومی تعمیر نو بیورو کے سربراہ ڈاکٹر عاصم کی زیرسربراہی ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے فارمولے پر عمل کرنے سے تیل کی قیمتوں میں دباٰؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں
سی این جی غائب، عوام پریشان
31 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد