BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 April, 2008, 16:24 GMT 21:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ:گیس کمپنیوں سےماحول کو’خطرہ‘

تیل وگیس
سندھ میں کئی کمپنیاں تیل وگیس کی تلاش و کاروبار کا کام کر رہی ہیں
سندھ میں تیل وگیس کے ذخائر کی تلاش کا کام کرنے والی کم از کم پانچ کمپنیوں کو کام کرنے سے روک دیاگیا ہے اور انہیں درجنوں مقامات پر تیل و گیس کی تلاش سے قبل ماحولیاتی اثرات کی رپورٹیں جمع کروانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ان کمپنیوں میں بین الاقوامی گیس کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے محکمے ’انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی‘ کے صوبائی ڈائریکٹر جنرل علی احمد لنڈ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کےمحکمے نے او جی ڈی سی، برٹش پٹرولیم ،اٹالین کمپنی ای این آئی ، آسٹرین کمپنی او ایم وی سمیت پانچ کمپنیوں کو سندھ کے درجنوں مقامات پر جاری تیل و گیس کی تلاش کا کام روکنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔

علی احمد لنڈ کے مطابق تیل و گیس کی تلاش کا کام کرنے والی مذکورہ کمپنیوں نے علاقے پر ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ اور ابتدائی ماحولیاتی رپورٹیں جمع کروائے بغیر علاقوں میں کام شروع کر دیا تھا جو کہ ماحولیاتی تحفظ کے آرڈر انیس سو ستانوے کی خلاف ورزی ہے۔

سندھ میں گزشتہ کئی برسوں سے ملکی و غیر ملکی کمپنیاں تیل وگیس کی تلاش و کاروبار کا کام کر رہی ہیں مگر انہیں کسی حکومتی محکمے کی جانب سے ماحولیاتی آلودگی کی بناء پر کام روکنے کے نوٹس پہلے مرتبہ جاری کیے گئے ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی کےحوالے سے جن کمپنیوں کو نوٹس ملے ہیں ان میں سے ایک ملکی کمپنی او جی ڈی سی نے ماحولیاتی اثرات کی رپورٹیں متعلقہ محکمے کے پاس جمع کروا دی ہیں جبکہ ستر ممالک میں کام کرنے والی اٹلی کی بڑی صنعتی کمپنی ای این آئی اور انیس سو چھپن میں قائم کی گئی آسٹرین کمپنی او ایم وی یا آسٹرین منرل آئل اتھارٹی سمیت برٹش آئل کمپنی نے تاحال ماحولیاتی اثرات کی رپورٹیں جمع نہیں کروائی ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل علی احمد لنڈ کے مطابق رپورٹ کمپنیوں کی طرف سے ماحولیاتی رپورٹیں جمع کروانے کے بعد تیس دن کے اندر علاقے کے متاثرہ افراد کو طلب کیا جائےگا اور ان کے اعتراضات سنے جائیں گے۔

 ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل و گیس کی تلاش کے لیے جب کمپنیوں کی طرف سے علاقوں میں دھماکے اور ڈرلنگ کی جاتی ہے تو متعلقہ علاقے کے پانچ کلومیٹر کے اطراف میں انسانی صحت اور زرعی زمینوں کی زرخیزی اور جنگلی حیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کی بحالی کے لیے متعلقہ گیس کپمنی علاقے میں ترقیاتی و فلاحی کام شروع کرنے کی پابند ہے مگر سندھ میں گیس کمپنیوں کے خلاف مقامی لوگ احتجاج کرتے رہے ہیں کہ انہیں صحت، صاف پانی اور روزگار کے معاملے میں کمپنیاں نظرانداز کر رہی ہیں

ماحولیاتی ماہرین ان رپورٹس کا جائزہ لیں گے جس کےبعد ان کمپنیوں کو دوبارہ کام کرنے کے اجازت دینے یا نہ دینے کے متعلق فیصلہ کیا جائیگا۔

سندھ میں او جی ڈی سی، برٹش پٹرولیم، اٹالین کمپنی اور آسٹرین کمپنی پہلے ہی تیل و گیس کے ذخائر پر کاروبار کر رہی ہیں مگر حالیہ اعتراضات ان کے نئے منصوبوں پر کیےگئے ہیں۔ ان کمپنیوں کے نئے منصوبوں میں بالائی سندھ کے جیکب آباد، خیرپور، شکارپور، کشمور، سکھر، حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں تیل و گیس کے ذخائر تلاش کرنا شامل ہے۔

تیل و گیس کی تلاش کا کام کرنے والی برٹش کمپنی اور آسٹرین کمپنی او ایم وی کے ترجمانوں سے اسلام آباد میں رابطے کیے گئے مگر انہوں نے اس موضوع پر بات کرنے سے معذرت کرلی۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل و گیس کی تلاش کے لیے جب کمپنیوں کی طرف سے علاقوں میں دھماکے اور ڈرلنگ کی جاتی ہے تو متعلقہ علاقے کے پانچ کلومیٹر کے اطراف میں انسانی صحت اور زرعی زمینوں کی زرخیزی اور جنگلی حیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کی بحالی کے لیے متعلقہ گیس کپمنی علاقے میں ترقیاتی و فلاحی کام شروع کرنے کی پابند ہے مگر سندھ میں گیس کمپنیوں کے خلاف مقامی لوگ احتجاج کرتے رہے ہیں کہ انہیں صحت، صاف پانی اور روزگار کے معاملے میں کمپنیاں نظرانداز کر رہی ہیں ۔

ماحولیاتی تحفظ کے صوبائی ڈائریکٹر جنرل علی احمد لنڈ کا کہنا ہے کہ اگر مقامی لوگوں کو اپنے حقوق اور ماحولیاتی آلودگی کا علم نہیں تو ان کا ادارہ وہ کام سرانجام دینے کے لیے تیار ہے اور لوگوں کی شکایات پر غور کیا جائےگا اور ان علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی کو مزید پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

اسی بارے میں
ماحولیاتی تحفظ کے معیار سخت
13 March, 2008 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد