ماحولیاتی تحفظ کے معیار سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) نے عوامی صحت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے معیارات کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس فیصلے کے تحت نائٹروجن اوکسائڈ اور گاڑیوں سے نکلنے والے دیگر کیمائی کمپاؤنڈ کی مقدار میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف سرگرم کارکنوں کا مطالبہ تھا کہ اس مقصد کے لیے زیادہ سخت معیارات مقرر کیے جائیں لیکن امریکی صنعتی اداروں نے اس کے خلاف کافی لابی کی تھی۔ صنعت سے متعلق رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نئے معیارات کافی مہنگے ثابت ہوں گے۔ اوزون سے لوگوں کے پھیپھڑے متاثر ہو جاتے ہیں، سانس کی نالی میں امراض پیدا ہوتے ہیں اور لوگوں کو دمے کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کی ایک کمیٹی کا کہنا تھا کہ فضا کی آلائش میں کمی سے چار ہزار کے قریب ہونے والی سالانہ اموات کو روکا جا سکے گا اور سات ہزار افراد کے ہسپتالوں کے چکر لگانے میں کمی آئے گی۔ ادارے کے منتظم سٹیفن جونسن کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے اوزون کے سخت ترین معیار پر دستخط کر کےصاف ہوا کے قانون کے تقاضوں کو پورا کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صاف ہوا کے قانون کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں کانگریس کو سفارشات بھیجی جا رہی ہیں۔ تاہم سٹیفن جانسن کا کہنا تھا کہ نئے معیارات سے بھی قوم کو فائدہ پہنچے گا۔ ’آج امریکہ کی ہوا گزشتہ نسل کے زمانے کی ہوا سے صاف تر ہے۔‘ ادارے کے مطابق نئے معیارات پر عمل درآمد پر سات اعشاریہ چھ بلین ڈالر سے آٹھ اعشاریہ پانچ بلین ڈالر تک اخراجات ہوں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کہتے ہیں کہ کئی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نئے ضابطوں سے عوامی صحت کو لاحق خطرات میں خاطر خواہ کمی نہیں آئے گی۔ | اسی بارے میں ماحولیاتی تبدیلی سے بچاؤ کا ’مقابلہ‘09 January, 2008 | نیٹ سائنس بالی میں ماحولیات پر اہم کانفرنس03 December, 2007 | نیٹ سائنس ’ماحولیاتی تبدیلی پر مل کر کام‘17 November, 2007 | نیٹ سائنس ’توانائی کی مانگ میں دوگنا اضافہ‘09 November, 2007 | نیٹ سائنس ایک ’سرسبز‘کمپیوٹر سسٹم کی طرف19 August, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||