BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 November, 2007, 22:30 GMT 03:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’توانائی کی مانگ میں دوگنا اضافہ‘
تیل
دنیا توانائی پر بہت انحصار کرنے لگی ہے، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی۔
عالمی توانائی کا مطالعہ کرنے والے ایک اہم ادارے نے کہا ہے کہ اگر بیشتر ملکوں نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں نہ کیں تو دنیا بھر میں توانائی کی مانگ ممکنہ طور پر بڑھتی چلی جائے گی۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی، آئی اِی اے، کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نوبوٹاناکا کے مطابق دنیا میں توانائی کی مانگ سن دو ہزار تیس تک صرف بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور اس وجہ سے سکیورٹی اور ماحولیاتی تبدیلیوں میں تیزی سے اضافہ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کے مقابلے میں دو ہزار تیس تک فوسل فیول، یعنی قدرتی ایندھن جس میں کوئلہ اور گیس وغیرہ شامل ہیں، کے استعمال میں کمی نہ آئی تو اس کی ضرورت پچاس فیصد سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

نوبوٹاناکا نے یہ بات آئی اِی اے کی ایک عالمی انرجی کی اہم رپورٹ، ورلڈ انرجی آؤٹ لک، کے اجراء کے موقع پر کہی۔ ان کے مطابق ہندستان اور چین، جن کی معیشتیں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، اس مانگ کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’عالمی توانائی فراہم کرنے کی مارکیٹ میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے وجہ سے ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کا ہر ملک اس بڑھتی ہوئی اور بے قابو توانائی کی مانگ پر قابو پائے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ظاہر سی بات ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی ترقی ہندستان اور چین کی اس عالمی توانائی کی مانگ میں مزید اضافہ کرےگی جس سے دو بلین عوام کی زندگیوں میں بہتری ہوگی۔ یہ ایک جائز خواہش ہے اور اس کے حصول کے لیے پوری دنیا کے لوگوں کو رواداری سے ان کا ساتھ دینا چاہیے‘۔

اسی بارے میں
پاک امریکہ مذاکرات کا آغاز
12 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد