’توانائی کی مانگ میں دوگنا اضافہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی توانائی کا مطالعہ کرنے والے ایک اہم ادارے نے کہا ہے کہ اگر بیشتر ملکوں نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں نہ کیں تو دنیا بھر میں توانائی کی مانگ ممکنہ طور پر بڑھتی چلی جائے گی۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی، آئی اِی اے، کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نوبوٹاناکا کے مطابق دنیا میں توانائی کی مانگ سن دو ہزار تیس تک صرف بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور اس وجہ سے سکیورٹی اور ماحولیاتی تبدیلیوں میں تیزی سے اضافہ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے مقابلے میں دو ہزار تیس تک فوسل فیول، یعنی قدرتی ایندھن جس میں کوئلہ اور گیس وغیرہ شامل ہیں، کے استعمال میں کمی نہ آئی تو اس کی ضرورت پچاس فیصد سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ نوبوٹاناکا نے یہ بات آئی اِی اے کی ایک عالمی انرجی کی اہم رپورٹ، ورلڈ انرجی آؤٹ لک، کے اجراء کے موقع پر کہی۔ ان کے مطابق ہندستان اور چین، جن کی معیشتیں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، اس مانگ کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’عالمی توانائی فراہم کرنے کی مارکیٹ میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے وجہ سے ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کا ہر ملک اس بڑھتی ہوئی اور بے قابو توانائی کی مانگ پر قابو پائے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ظاہر سی بات ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی ترقی ہندستان اور چین کی اس عالمی توانائی کی مانگ میں مزید اضافہ کرےگی جس سے دو بلین عوام کی زندگیوں میں بہتری ہوگی۔ یہ ایک جائز خواہش ہے اور اس کے حصول کے لیے پوری دنیا کے لوگوں کو رواداری سے ان کا ساتھ دینا چاہیے‘۔ | اسی بارے میں یورپ : انرجی کی نئی حکمت عملی 10 January, 2007 | آس پاس پاک امریکہ مذاکرات کا آغاز12 September, 2007 | پاکستان پاکستان کے کردار پر امریکہ کا اطمینان12 September, 2007 | پاکستان سرحد معیشت: تصویر کا دوسرا رُخ07 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||