پاک امریکہ مذاکرات کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں بدھ کی صبح سٹریٹیجک مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگیا ہے جس میں انسداد دہشت گردی سمیت مختلف موضوعات پر تعاون بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان جبکہ امریکی وفد کی رہنمائی نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں جنوبی ایشیا کے لیئے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر بھی موجود ہیں۔ مذاکرات کے بعد بدھ کی سہہ پہر صحافیوں کو اس میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ امریکی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ نائب وزیرخارجہ رچرڈ باؤچر ان مذاکرات کے لیےگزشتہ جعمہ سے پاکستان میں تھے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے گزشتہ روز ایک بریفنگ سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں اقتصادی تعاون، تعلیم، سلامتی، انسداد دہشت گردی اور توانائی سمیت مختلف سماجی شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ بات چیت میں قبائلی علاقوں میں امریکی تعاون سے تعمیرنو مواقع زونز کے قیام اور قبائلی علاقوں کی ترقی کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ اس سے قبل سٹرٹیجک مذاکرات کا پہلا دور اپریل 2006ءمیں واشنگٹن میں ہوا تھا۔ مارچ 2006ء میں صدر بش کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے صدور نے ادارہ جاتی نظام وضع کر کے سٹرٹیجک مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ توقع ہے کہ جان نیگرو پونٹے اپنے قیام کے دوران اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹرٹیجک مذاکرات سے توقعات اور پیش رفت کے سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ پاکستان اپنے طلباءکو امریکہ میں اعلٰی تعلیم اور تربیت کیلئے بھیجنا چاہتا ہے کیونکہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی ویزہ کےحصول کےطریقہ کار میں پیچیدگیوں کے باعث امریکہ جانے والے پاکستانی طلباءکی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان توانائی کے شعبہ میں پاک۔امریکہ مذاکرات میں پیش رفت چاہتا ہے کیونکہ یہ ایک اہم شعبہ ہے اور امریکی ماہرین کو توانائی کے متبادل ذرائع اور ان کے استعمال کے بارے میں تجاویز دی گئی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان کی خواہش ہوگی کہ اس کے طلباءاور ماہرین کو امریکی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم اور تربیت کے مواقع ملیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک پاکستان میں یونیورسٹیوں کے قیام کیلئے معاونت فراہم کر رہے ہیں اور پاکستان کی خواہش ہے کہ امریکہ اس شعبہ میں بھی اپنی معاونت کو توسیع دے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ملک میں امریکی یونیورسٹیوں کے کیمپسز کھولنے کا خیرمقدم کرے گا۔دونوں ممالک کے حکام صحافیوں کو بھی بدھ کو اپنے فیصلوں سے آگاہ کرنے کے لیے بریف کریں گے۔ | اسی بارے میں باؤچر اسلام آباد سے کابل روانہ08 September, 2007 | پاکستان ’امریکہ سےتعلقات متاثر ہوسکتے ہیں‘07 August, 2007 | پاکستان مشرف کیلیے بھرپور امریکی حمایت 16 July, 2007 | پاکستان کارروائیوں میں ملوث نہیں: امریکہ02 August, 2007 | پاکستان امریکی کانگریس، پاکستان پر نیا بِل26 January, 2007 | پاکستان آزادانہ تجارت یا امریکی تسلط 15 June, 2006 | پاکستان کبھی دھمکی نہیں دی: آرمیٹیج22 September, 2006 | پاکستان ’پاکستان کے شکرگزار ہیں‘23 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||