کارروائیوں میں ملوث نہیں: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں تعینات امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے مدارس کے خلاف جاری کارروائیوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث نہیں ہے، نہ ہی لال مسجد آپریشن میں امریکی مشاورت شامل ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو لاہور کے علاقے غازی آباد میں قائم مرکزی مدنی مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسے جامعہ رحیمیہ کے دورے کے موقع پر ذرائع ابلاغ اور مدرسے کےطلبہ کے سوالوں کہ جواب دیتے ہوئے کہی۔ امریکی سفیر نے بدھ کے روز مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور دیگر لیگی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں رکن قومی اسمبلی بیگم تہمینہ دولتانہ، سرتاج عزیز، رانا ثناء اللہ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ این ڈبلیو پیٹرسن پاکستان میں تعیناتی کے بعد ان دنوں پہلی بار پنجاب کے دارالحکومت لاہور کہ دورہ پر آئی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بدھ کے روز پنجاب کے گورنر خالد مقبول، وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہی سے ملاقاتیں کی تھیں اور تاریخی بادشاہی مسجد کا بھی دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں براہ راست کارروائی کرنے کا امریکہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
جامعہ رحیمیہ کے دورے کے موقع پر مدرسے کے مہتمم علامہ عابد زبیری نے امریکی سفیر کو مدرسے میں پڑھائے جانے والے دینی اور جدید علوم سے متعلق بریف کیا جبکہ امریکی سفیر نے مدرسہ میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات سے بھی ملاقاتیں کی۔ ایک موقع پر امریکی سفیر نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ بچے مجھ سے سوال کریں جس پر ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر ان سے پوچھا کہ امریکہ مدارس میں بچوں کو ہلاک کیوں کر رہا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے پیٹرسن نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے مدارس کے خلاف جاری کارروائیوں میں ملوث نہیں ہے۔ امریکی سفیر نے ذرائع ابلاغ کہ نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر جدید تعلیم کو فروغ دینے کی صلاحیت موجود ہے اور امریکہ اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی ہماری لڑائی کسی مذہب کے خلاف ہے بلکہ امریکہ کی جنگ ایسے عناصر کے خلاف ہے جو دہشتگردی کے لیے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہم اسلام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستان کے دینی مدارس میں جدید تعلیم خوش آئند بات ہے۔‘ پاکستان میں مدارس کی اکثریت دینی اور جدید علوم کے ذریعے سماج کی خدمت کر رہی ہے تاہم کچھ ایسے مدارس بھی ہیں جن میں نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے اور وہ مدارس انتہا پسندی کو فروغ دے کر امن خراب کر رہے ہیں۔ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ این ڈبلیو پیٹرسن اور امریکی قونصلیٹ کے دیگر حکام سے ان کی آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور امریکی سفیر نے وضاحت کے ساتھ کہا کہ امریکی حکومت کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان میں غیرجانبدار اور شفاف انتخابات ہوں۔ کھوسہ کے مطابق امریکی سفیر نے ان سے یہ بھی دریافت کیا کہ پاکستان میں شفاف انتخابات کا انعقاد کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ کھوسہ نہ کہا کہ انہوں نے عام انتخابات سے قبل ہی حزب مخالف کے خلاف ہونے والی حکومتی کارروائیوں سے بھی انہیں آگاہ کیا کہ پاکستان میں مخالفین کو کیسے دبایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی اور امریکی سفیر نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان میں جمہوریت کو فروغ دینا نہ صرف ملک بلکہ خطے کے لیے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرتاج عزیز نے امریکی سفیر کو بلوچستان اور سرحد کے حالات سے بھی تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔ ان کے مطابق امریکی سفیر نے ایک موقع پر واضح کیا کہ جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کی ممکنہ ڈیل میں امریکہ کا کوئی بھی کردار نہیں ہے۔ بعد ازاں سردار ذوالفقار کھوسہ نے ملاقات کے حوالے سے میڈیا کو تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ جبکہ امریکی سفیرنے پنجاب اسمبلی کا بھی دورہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||