BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 August, 2007, 13:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارروائیوں میں ملوث نہیں: امریکہ

 بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد امریکی سفیر این پیٹرسن کا دورہ کراتے ہوئے
بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد امریکی سفیر این پیٹرسن کا دورہ کراتے ہوئے
پاکستان میں تعینات امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے مدارس کے خلاف جاری کارروائیوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث نہیں ہے، نہ ہی لال مسجد آپریشن میں امریکی مشاورت شامل ہے۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو لاہور کے علاقے غازی آباد میں قائم مرکزی مدنی مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسے جامعہ رحیمیہ کے دورے کے موقع پر ذرائع ابلاغ اور مدرسے کےطلبہ کے سوالوں کہ جواب دیتے ہوئے کہی۔

امریکی سفیر نے بدھ کے روز مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور دیگر لیگی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں رکن قومی اسمبلی بیگم تہمینہ دولتانہ، سرتاج عزیز، رانا ثناء اللہ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

این ڈبلیو پیٹرسن پاکستان میں تعیناتی کے بعد ان دنوں پہلی بار پنجاب کے دارالحکومت لاہور کہ دورہ پر آئی ہوئی ہیں۔

انہوں نے بدھ کے روز پنجاب کے گورنر خالد مقبول، وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہی سے ملاقاتیں کی تھیں اور تاریخی بادشاہی مسجد کا بھی دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں براہ راست کارروائی کرنے کا امریکہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

امریکی سفیر سے سوال
 ایک موقع پر امریکی سفیر نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ بچے مجھ سے سوال کریں جس پر ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر ان سے پوچھا کہ امریکہ مدارس میں بچوں کو ہلاک کیوں کر رہا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے پیٹرسن نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے مدارس کے خلاف جاری کارروائیوں میں ملوث نہیں ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیاں ممکنہ ڈیل میں امریکہ کا کوئی بھی کردار نہیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے عوام ہی یہ فیصلا کریں کہ ان کا صدر اور وزیراعظم کس کو بننا ہے۔

جامعہ رحیمیہ کے دورے کے موقع پر مدرسے کے مہتمم علامہ عابد زبیری نے امریکی سفیر کو مدرسے میں پڑھائے جانے والے دینی اور جدید علوم سے متعلق بریف کیا جبکہ امریکی سفیر نے مدرسہ میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات سے بھی ملاقاتیں کی۔

ایک موقع پر امریکی سفیر نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ بچے مجھ سے سوال کریں جس پر ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر ان سے پوچھا کہ امریکہ مدارس میں بچوں کو ہلاک کیوں کر رہا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے پیٹرسن نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے مدارس کے خلاف جاری کارروائیوں میں ملوث نہیں ہے۔

امریکی سفیر نے ذرائع ابلاغ کہ نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر جدید تعلیم کو فروغ دینے کی صلاحیت موجود ہے اور امریکہ اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی ہماری لڑائی کسی مذہب کے خلاف ہے بلکہ امریکہ کی جنگ ایسے عناصر کے خلاف ہے جو دہشتگردی کے لیے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم اسلام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستان کے دینی مدارس میں جدید تعلیم خوش آئند بات ہے۔‘ پاکستان میں مدارس کی اکثریت دینی اور جدید علوم کے ذریعے سماج کی خدمت کر رہی ہے تاہم کچھ ایسے مدارس بھی ہیں جن میں نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے اور وہ مدارس انتہا پسندی کو فروغ دے کر امن خراب کر رہے ہیں۔

 ہم اسلام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستان کے دینی مدارس میں جدید تعلیم خوش آئند بات ہے۔ پاکستان میں مدارس کی اکثریت دینی اور جدید علوم کے ذریعے سماج کی خدمت کر رہی ہے تاہم کچھ ایسے مدارس بھی ہیں جن میں نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے اور وہ مدارس انتہا پسندی کو فروغ دے کر امن خراب کر رہے ہیں۔
امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان میں تعلیم اور صحت سمیت سماجی شعبے میں ترقی کے لیے امداد جاری رکھے گا۔

سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ این ڈبلیو پیٹرسن اور امریکی قونصلیٹ کے دیگر حکام سے ان کی آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور امریکی سفیر نے وضاحت کے ساتھ کہا کہ امریکی حکومت کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان میں غیرجانبدار اور شفاف انتخابات ہوں۔

کھوسہ کے مطابق امریکی سفیر نے ان سے یہ بھی دریافت کیا کہ پاکستان میں شفاف انتخابات کا انعقاد کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

کھوسہ نہ کہا کہ انہوں نے عام انتخابات سے قبل ہی حزب مخالف کے خلاف ہونے والی حکومتی کارروائیوں سے بھی انہیں آگاہ کیا کہ پاکستان میں مخالفین کو کیسے دبایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی اور امریکی سفیر نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان میں جمہوریت کو فروغ دینا نہ صرف ملک بلکہ خطے کے لیے بھی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرتاج عزیز نے امریکی سفیر کو بلوچستان اور سرحد کے حالات سے بھی تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔ ان کے مطابق امریکی سفیر نے ایک موقع پر واضح کیا کہ جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کی ممکنہ ڈیل میں امریکہ کا کوئی بھی کردار نہیں ہے۔ بعد ازاں سردار ذوالفقار کھوسہ نے ملاقات کے حوالے سے میڈیا کو تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ جبکہ امریکی سفیرنے پنجاب اسمبلی کا بھی دورہ کیا۔

افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
پاکستان اور نو گیارہ
9/11 اور پاکستان میں بدلتی ہوئی صورت حال
دہشت گردوں کا مزا
دہشت گرد امریکہ کی بے بسی پر خوش
شوکت سلطان’طاقت اور مذاکرات‘
حکمت عملی میں تبدیلی، دہشت گردی میں کمی
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
 حاجی عمرامریکی نقصان زیادہ
طالبان کے مطابق امریکی نقصان چھپاتے ہیں۔
امریکی سینٹنیا امریکی قانون
پاکستان کی مدد انسدادِ دہشتگردی سے مشروط
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد