BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 September, 2007, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کے کردار پر امریکہ کا اطمینان

نیگروپونٹے اور خورشید قصوری
سٹرٹیجک مذاکرات کا پہلا دور اپریل 2006ء میں واشنگٹن میں ہوا تھا
امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے عزم میں کوئی کمی دکھائی نہیں دے رہی بلکہ بقول اس کے وہ اپنے حصے سے زیادہ کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان کی مشکلات اور مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے، یہ بات امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے نے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کی۔ اس موقع پر پاکستانی سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان بھی موجود تھے۔

امریکی اہلکار اس موقف سے متفق نہیں تھے کہ قبائلی علاقوں میں بڑی تعداد میں فوجیوں کے اغوا کے واقعات سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف پاکستانی فوج کے جذبے میں کمی ظاہر ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بابت کوئی شبہ نہیں ہے اور اس کی ایک واضع مثال پاکستان کے اب تک ایک ہزار سے زائد فوجیوں کی اس علاقے میں ہلاکت ہے۔ جان نیگروپونٹے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس کے برعکس مزید نفری قبائلی علاقوں میں بھیجی ہے۔

اس موقع پر پاکستانی سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان نے کہا کہ یہ جنگ پاکستان کسی اور کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے مفاد میں لڑ رہا ہے۔

نرمی کے الزامات
 بعض امریکی حلقے پاکستان پر قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی میں نرمی کے الزامات لگا رہے تھے۔ امریکی اہلکاروں نے خود پاکستانی علاقے میں کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی تھیں

مبصرین کے خیال میں جان نیگرپونٹے کا بیان پاکستان پر حالیہ دنوں میں بڑھتے ہوئے امریکی دباؤ میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ چند روز قبل تک بعض امریکی حلقے پاکستان پر قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی میں نرمی کے الزامات لگا رہے تھے۔ امریکی اہلکاروں نے اس سلسلے میں خود پاکستانی علاقے میں کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

وزارت خارجہ میں بدھ کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک کہلائے جانے والے مذاکرات کا دوسرا دور ہوا۔ ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان جبکہ امریکی وفد کی رہنمائی نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان اس بات چیت میں اقتصادی تعاون، تعلیم، سلامتی، انسداد دہشت گردی اور توانائی سمیت مختلف سماجی شعبوں پر غور کیا گیا ہے۔

بات چیت میں قبائلی علاقوں میں امریکی تعاون سے تعمیرنو اور قبائلی علاقوں کی ترقی کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

توقع ہے کہ جان نیگرو پونٹے اپنے قیام کے دوران اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

ریاض محمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان توانائی کے شعبہ میں پاک۔امریکہ مذاکرات میں پیش رفت چاہتا ہے کیونکہ یہ ایک اہم شعبہ ہے اور امریکی ماہرین کو توانائی کے متبادل ذرائع اور ان کے استعمال کے بارے میں تجاویز دی گئی ہیں۔

تعلیم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان کی خواہش ہوگی کہ اس کے طلباءاور ماہرین کو امریکی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم اور تربیت کے مواقع ملیں اور پاکستان میں امریکی یونیورسٹیوں کے کیمپسس قائم کرنے میں معاونت کرے۔

اسی بارے میں
کبھی دھمکی نہیں دی: آرمیٹیج
22 September, 2006 | پاکستان
’پاکستان کے شکرگزار ہیں‘
23 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد