کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ اپنے کمپیوٹر سے بجلی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں؟ ضرورت کے نئے سوفٹ ویئر اور نئی گیمز تمام کو چلانے کے لیے زیادہ پراسیسنگ کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے لیے زیادہ انرجی درکار ہوتی ہے۔  | | | بیٹر سی پاور سٹیشن انیس سو سینتیس سے انیس سو بیاسی تک آپریشنل رہا۔ |
لندن کا بیٹر سی پاور سٹیشن اب انتہائی برے حال میں ہے۔ اب یہ اپنی اصل حالت کا صرف ایک کھنڈر لگتا ہے۔ اس کی اس حالت کی وجہ اس حقیقت کا ادراک تھا کہ انرجی جینریشن صرف ایک ون وے سٹریٹ نہیں ہے: جتنی زیادہ بجلی یہ پیدا کرے گا، اتنا ہی ماحولیات کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوگا۔ اس حقیقت نے جہاں ہر استعمال کی چیز کے بارے میں ہمارا نقطہِ نظر بدل ڈالا، وہاں کمپیوٹر کا کسی کو خیال نہیں آیا۔ تاہم اب ان کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس سے دنیا بھر میں ہونے والی پاور جینریشن کو فرق پڑا ہے اور ’سرسبز‘ کمپیوٹر سسٹم کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے جو ماحول کے لیے دوستانہ ثابت ہوسکے۔ کمپیوٹر کے پرزہ جات بنانے والی کمپنی کمپیوٹر کمپوننٹ مینیوفیکچرر، اینٹیک کے سکاٹ رچرڈز کا کہنا ہے ’نوے کی دہائی میں جب پینٹیئم پروسیسر متعارف کروایا گیا تھا تو ایک اوسط کمپیوٹر سسٹم ایک سو تیس یا ایک سو چالیس واٹس بجلی استعمال کرتا تھا۔ لیکن آج ہم بارہ سو واٹس پاور سپلائی کے یونٹس فروخت کررہے ہیں۔‘ جہاں کمپیوٹر کے اندر بجلی کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے وہاں کپمیوٹر کو بجلی مہیا کرنے والا یونٹ بہتر نہیں ہوا۔
 | خودکار سوئچز   بہت سے ایسے سوئچز بھی اب موجود ہیں جو سٹینڈ بائے پر چلے جانے والے کمپیوٹر کو بجلی کی سپلائی خودکار طور منقطع کردیتے ہیں۔  |
مسٹر رچرڈز کا کہنا ہے کہ صرف دس سے پندرہ برس پہلے بجلی مہیا کرنے والے یونٹ میں پچاس فیصد تک ضیاع کا امکان رکھا جاتا تھا۔ یعنی اگر آپ کو سو وجٹس بجلی درکار ہے تو آپ اسے دو سو واٹس بجلی مہیا کرتے تھے اور پچاس فیصد حدت کی وجہ سے ضائع ہوتی تھی۔ ’وقت کے ساتھ ساتھ بجلی مہیا کرنے والے یونٹ کی کارکردگی یقیناً بہتر ہوئی ہے۔ دو یا تین سال قبل تک صرف تیس فیصد ضیاع کو بہتر سٹینڈرڈ مانا گیا‘۔ حال ہی میں پاور سپلائی مینیوفیکچررز نے مل کر ایک ادارہ بنایا ہے جسے ایٹی پلس کا نام دیا گیا ہے اور جس کا مقصد بجلی کے ضیاع کو بیس فیصد سے بھی کم کرنا ہے۔ سکاٹ رچرڈز کا کہنا ہے ’جس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ صارفین میں اس پر آگہی کا فروغ ہے، خصوصاً بڑے کاروباری اداروں میں۔ اگر آپ صرف لندن ہی کے بڑے اداروں کو لے لیں، تو ان کے ہاں کتنے پی سیز ہوتے ہیں؟ ہزاروں۔ اگر یہ پی سیز دو یا تین برس پرانے بھی ہوں تو ان میں بجلی کا ضیاع تیس سے چالیس فیصد تک ہوسکتا ہے‘۔ لیکن صرف بجلی مہیا کرنے کے یونٹ ہی نہیں بلکہ ماحولیات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پروسیسرز کی کارکردگی بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انٹیگریٹڈ سرکٹ سپلائی اے ایم ڈی کے بروس شا کا کہنا ہے کہ ملٹی کور پروسیسر میں ہوسکتا ہے کہ کچھ ایپلیکیشنز میں ایک کور تو پوری رفتار سے چل رہی ہو جبکہ دوسری کورز کچھ نہ کر رہی ہوں اور اس کور کے انتظار میں ہوں لیکن حدت پیدا کر رہی ہوں۔ ’جب تک پروسیسر بجلی استعمال کرتا رہے گا، حدت پیدا ہوتی رہے گی۔ ہم پروسیسر کے مختلف حصوں کو بجلی مہیا کرسکتے ہیں اور اگر یہ باقی سسٹم کی طرح کسی کام میں مصروف نہیں ہے تو اسے ہائبرنیٹ کر جانے دیں تاکہ بجلی ضائع نہ ہو۔‘ مسٹر شا نے کہا۔
 | پراسیسر بہتر کرنے کی ضرورت   جب تک پروسیسر بجلی استعمال کرتا رہے گا، حدت پیدا ہوتی رہے گی۔ ہم پروسیسر کے مختلف حصوں کو بجلی مہیا کرسکتے ہیں اور اگر یہ باقی سسٹم کی طرح کسی کام میں مصروف نہیں ہے تو اسے ہائبرنیٹ کر جانے دیں تاکہ بجلی ضائع نہ ہو۔  بروس شا، اے ایم ڈی |
پھر کمپیوٹر کو ہائبرنیٹ یا سٹینڈ بائے رکھنے سے نہ صرف آپ کا بجلی کا بل بڑھتا ہے بلکہ اس سے کاربن کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ سکاٹ رچرڈز کا کہنا ہے ’ میں تو یہی تجویز کروں گا کہ اگر آپ اپنا کمپیوٹر سٹینڈ بائے پر نہیں چاہتے تو کسی سٹور سے جاکر پاور سٹرپ خرید ڈالیں اور اپنے سسٹم کے تمام حصے اس سے پلگ کردیں۔ اب جب آپ کو سسٹم بند کرنا ہو تو پاور سٹرپ کو بجلی کی فراہمی منقطع کردیں۔ یہ واحد طریقہ ہے جس سے پورے سسٹم کو بجلی کی فراہمی منقطع کی جا سکتی ہے۔ |