کمپیوٹرز کے لیے ننھے پنکھے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بہت چھوٹے اور باریک پنکھے اب ممکنہ طور پر کمپیوٹز کی طاقت کو مزید بڑھا سکیں گے۔ امریکی ماہرین نے ان پنکھوں کا ایک ایسا ابتدائی نمونہ تیار کیا ہے جو کرنٹ کے ذرات کی مدد سے کمپوٹر کو ہوا دیتا ہے تا کہ وہ ٹھنڈا ہو۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ننھا پنکھا کمپیوٹروں میں پیدا ہوتی حرارت کو محفوظ طریقے سے سنبھالتا ہے۔ اب یہ تحقیق جرنل اف اپلاڈ فزکس میں بھی شائع ہو گی۔ ٹرانسسٹر کی مدد سے جیسے جیسے کمپوٹرز طاقتور ہو رہے ہیں اُن کے اندرونی پرزے اور بھی چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹرانسسٹر وہ آلہ ہے جو کمپوٹرز میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ پورڈو یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر ٹموتھی فشر کا کہنا ہے کہ: ’ کمپوٹرز اور برقی طاقت سے چلنے والے آلات میں حدّت کا مطلب طاقت ہے۔ اِسی لیے ہمیں اس طاقت کو مزید اچھی طرح سے سنبھالنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہ لیپ ٹاپ اور چھوٹے کمپوٹروں میں بھی کام آتا ہے۔‘ کمپوٹروں کو ٹھنڈا کرنے کی روائتی ٹکنالوجی جو پنکھوں کا استعمال کرتی ہے، ایک حد تک کارآمد ہے کیونکہ بعد میں اُس میں ہوا کی روانی میں مشکلات آتی ہے، جیسے کہ جوگھومنے والے بلِیڈ کمپوٹرز چپ کو ہوا دیتے ہیں وہ وقت کے ساتھ ٰچھوٹے زرات میں پھنس جاتے ہیں اور ساکت ہو جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے ٹھنڈا کرنے کے عمل میں رکاوٹ آجاتی ہے۔ مگر یہ نیا تجرباتی پنکھا ایک نیۓ طرح سےکام کرتا ہے۔ تجربے کی طور پے یہ ابتدائی نمونہ ایک نقلی کمپوٹر میں لگایا گیا تھا اور جیسے ہی ایک ٰچھوٹے انجن میں کرنٹ دوڑا مثبت چارچ کے ذرات بنے اور منفی چارچ والے تار کی طرف کھنچے، جس سے روانی سے ہوا چلنے لگی۔ منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ آلہ روائتی ٹھنڈا کرنے والے طریقے سے دو سوپچاس فیصد بہتر ہے اور مزید یہ کہ نئے آنے والے کمپوٹرز اور صارفین دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ اب ان ماہرین کی کو شش ہے کہ اس ابتدائی آلہ کواور بھی چھوٹااور باریک بنائیں جوصرف چند ملی میٹر بڑا ہو۔ اگر وہ اس میں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو ٹیم کو امید ہے کہ اِسے وہ تین سال کے اندر متعارف کرا سکے گی۔ یہ تحقیق امریکی ریاست اِنڈییانا کی پورڈو یونیورسٹی اور مشہور چپ کمپنی انٹل کی تعاون سے ہو رہی ہے۔ |
اسی بارے میں خلائی کمپیوٹر میں نقص، تحقیقات27 July, 2007 | نیٹ سائنس آئی بی ایم: دنیا کا تیز ترین کمپیوٹر28 June, 2007 | نیٹ سائنس بی بی سی اور یاہُو کا ’یوم ہیکنگ‘16 June, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلیاں اور کمپیوٹر ماڈل 02 February, 2007 | نیٹ سائنس ہیکنگ کے خلاف ایف بی آئی کی مہم15 June, 2007 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||