BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 March, 2007, 07:45 GMT 12:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی کی’ کمپیوٹر بریکنگ انڈسٹری‘

شیر شاہ میں کمپیوٹرز کھول کر ان کے پرزے الگ کیے جاتے ہیں
گلی گلی گھوم کر، ردّی، ٹین ڈبے، بھوسی ٹکڑے اور گھر کا کاٹھ کباڑ جمع کرنے والے کباڑی تو آّپ نے دیکھے ہی ہوں گے۔

یہ کباڑی تو دن بھر گھوم گھام کر یہ رد کیا ہوا سامان جمع کر تے ہیں پر ایسے کباڑیے کے بارے میں کیا کہیے گا جس کے پاس دنیا بھر سے فرسودہ اور ناکارہ کمپیوٹرز تکنیکی کباڑ کی صورت میں خود چل کر آ رہے ہوں؟

کراچی کے علاقے شیر شاہ میں یوں تو مختلف نوعیت کی صنعتی اشیا اور استعمال شدہ مصنوعات افراط سے دستیاب ہیں مگر یہ جگہ ترقی یافتہ ممالک سے درآمد کیے گئے پرانے اور متروک کمپیوٹروں کا ٹھکانا بھی ہے۔

ان درآمد شدہ کمپیوٹروں میں سے استعمال شدہ مگر نسبتاً نئے کمپیوٹرز کو تو متروک مشینوں سے علیحدہ کر لیا جاتا ہے اور مرمت اور جوڑ توڑ کے بعد استعمال شدہ کمپیوٹروں کے دیگر کاروباری مراکز میں فروخت کیا جاتا ہے۔

 ہم ناکارہ کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسک میں سے چاندی، کیسنگ سے المونیم، کمپیوٹر سرکٹ اور آئی سی سے تانبہ اور مدر بورڈ کی پنز سے سونا نکال کر آگے فروخت کر تے ہیں
وقار حسین بخاری

تاہم درآمدی کھیپ میں موجود فرسودہ اور ناقابل استعمال کمپیوٹروں کی منزل شیر شاہ کے گودام ٹھہرتے ہیں۔ ان گوداموں میں کمپیوٹرز کھول کر ان کے پرزے الگ کیے جاتے ہیں۔ پھر ان پرزوں کو توڑ کر ان سے تانبہ، لوہا، سونا اور دیگر دھاتیں حاصل کی جاتی ہیں۔

ایسے ہی ایک گودام میں ڈھائی سو روپے دہاڑی پر کام کرنے والے مزدور محمد رمضان بھی ہیں۔ ناکارہ کمپیوٹروں کے پرزوں کے ڈھیر میں سے کمپیوٹر ہارڈ ڈسکس اور سی ڈی ڈرائیوز کو ہتھوڑے اور پیچ کس کی مدد سے توڑتے ہوئے رمضان نے بتایا ’یہاں پر زیادہ کمپیوٹر دبئی کے راستے آتے ہیں جنہیں یہاں کے سیٹھ سکریپ کے طور پر خریدتے ہیں، پھر انہیں توڑ کر ان میں سے میں چاندی، تانبہ اور پیتل نکالتا ہوں جو بالترتیب ایک سو بیس روپے فی کلو، تین سو روپے فی کلو اور ایک سو پچھتر روپے فی کلو بکتا ہے۔ جب ان دھاتوں کی مقدار چار،پانچ ٹن سے اوپر ہو جاتی ہے تو پھر سیٹھ انہیں آگے بیچ دیتا ہے‘۔

زیادہ کمپیوٹر دبئی کے راستے آتے ہیں جنہیں کراچی کے سیٹھ سکریپ کے طور پرخریدتے ہیں

ان گوداموں میں کمپیوٹر پرزوں کے انبار کے درمیان بیٹھے مزدورں کو مختلف اوزاروں کی مدد سے کمپیوٹر کے حصّوں کو توڑتے اور علیحدہ کر تے دیکھ کر ایک ننھی منھی سی ’شپ بریکنگ انڈسٹری‘ کا گمان ہوتا ہے۔

کمپیوٹر کیسنگ، مدر بورڈ، ہارڈ ڈسکس اور پرانے کی بورڈز سے بھرا ہوا شیر شاہ کے اس گودام کے مالک سید و‌قار حسین بخاری ہیں۔ و‌قار حسین کمپیوٹر سائنسز میں ماسٹرز ہیں اور دو برس قبل تدریس کے شعبے کےمعاشی پہلوسے غیر مطمئن ہو کر انہوں نے کمپیوٹر سکریپ کا کاروبار شروع کیا۔

اپنے اس کاروبار کے بارے میں بتاتے ہوئے وقار حسین نے کہا’ہمارے پاس سنگاپور، برطانیہ، شارجہ، مسقط ، بحرین اور دیگر عرب ممالک سے پرانے کمپیوٹرز بطور سکریپ آتے ہیں۔ ہم ناکارہ کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسک میں سے چاندی، کیسنگ سے المونیم، کمپیوٹر سرکٹ اور آئی سی سے تانبہ اور مدر بورڈ کی پنز سے سونا نکال کر آگے فروخت کر تے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ایسا نہیں کہ کمپیوٹروں میں سے صرف یہ دھاتیں ہی نکال کر فروخت کی جاتی ہیں بلکہ یہاں لائے جانے والے تمام کمپیوٹروں کے پرزے سکریپ کی صورت میں منافع پر فروخت ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر تیس روپے میں خریدے گئے ایک کمپیوٹر کے سی پی یو کا وزن چار، پانچ کلو ہوتا ہے اور اس میں مختلف پرزے بھی موجودہوتے ہیں۔ اس سی پی یو کا صرف پلاسٹک اور المونیم کی کیسنگ ستر سے پچھہتر روپے میں فروخت ہوتی ہے۔

پرزوں کو توڑ کر ان سے تانبہ، لوہا، سونا اور دیگر دھاتیں حاصل کی جاتی ہیں

وقار بخاری کے مطابق یہاں پر لایا جانے والا تمام مال صفائی ستھرائی اور ری سائکلنگ کے بعد ملک کی دیگر صنعتوں میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

شیر شاہ میں کمپیوٹر سکریپ کے کاروبار سے وابستہ افراد کی اکثریت ماحولیاتی نقصان اور سکریپ کی ری سائکلنگ اور پرزوں سے دھاتیں کے نکالنے کے طریقۂ کار سے انسانی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات سے لاعلم ہے۔

زہریلے مواد کی تجارت سے ہونے والی ماحولیاتی آلودگی پر نظر رکھنے والی تنظیم بیزل ایکشن نیٹورک (بین) کی سنہ 2002 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں شیر شاہ میں کمپیوٹر سکریپ کی صنعت سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی آلودگی اور انسانی صحت پر اس کے منفی اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق کمپیوٹر مانیٹروں اور سرکٹس میں موجود سیسہ اور پارہ، سیمی کنڈکٹر چپس میں کیڈمیم، مدر بورڈز میں بیریلیم، کمپیوٹر کی کیتھوڈ رے ٹیوبز میں فاسفورس اور دوسرے پرزوں میں استعمال ہونے والے دیگر کیمیائی اجزاء سے گردوں، اعصابی اور تولیدی نظام کے امراض سے لے کر کینسر جیسی خطرناک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

بلا شبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ارتقاء اور کمپیوٹر مصنوعات میں جدت نے ہماری روزمرہ کی زندگی، تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں پر بہت سے مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

اس تکنیکی پیش رفت نے جہاں صارفین میں نت نئے کمپیوٹرگیجٹس اور پہلے کی نسبت زیادہ مؤثر اور تیز رفتار کمپیوٹروں کی طلب کو فروغ دیا ہے وہیں اس رجحان کا ایک ماحصل تیزی سے متروک الاستعمال اور بوسیدہ قرار دیے جانے والے کمپیوٹروں کی صورت میں تکنیکی کباڑ بن کر ترقی پذیر ممالک کے حصے میں آ رہا ہے۔

یوٹیوب ایک عوام وڈیو فورم کے طور پر کامیاب رہا ہےریبا ڈائری: ویب ٹو
ویب ٹو پاکستان میں کتنا مقبول؟
ریبا کی ڈائری
انٹرنیٹ پر پاکستانی خواتین کی مصروفیات !!
لیپ ٹاپ100 ڈالرکا کمپیوٹر
2007 میں ہر بچے کے لیے ایک لیپ ٹاپ کا منصوبہ
ریبا کی ڈائری
06: سنسر شپ اور انٹرنیٹ صارفین کا سال
ریبا شاہدریبا کی ڈائری
لاہور میں رورل وائرلیس کنیکٹوٹی کانفرنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد