مِشن 2007: ایک لیپ ٹاپ فی بچہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جولائی دو ہزار سات میں ’ایک لیپ ٹاپ فی بچہ‘ نامی منصوبہ کے تحت بنے لیپ ٹاپ کی پہلی کھیپ صارفین کے پاس پہنچنے کا امکان ہے۔ اس سکیم کے تحت توقع کی جا رہی ہے کہ کم قیمت کے کمپیوٹر ترقی پذیر ممالک کے لوگوں تک پہنچائے جا سکیں گے۔ پاکستان کو بھی اس منصوبے کی تفصیلات دی گئی تھیں لیکن اس میں وہ نہیں شامل ہو گا۔ خبریں تھیں کہ 'ایک لیپ ٹاپ فی بچہ' منصوبے کے تحت بنے سستے لیپ ٹاپ خریدنے کا پاکستان نے بھی کیا ہے۔ لیکن وزیر تعلیم جاوید اشرف قاضی نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس منصوبے کی تمام تفصیلات پیش کی گئی تھی لیکن اس نے اس معاہدہ میں نا شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاہدہ کرنے والے ممالک میں برازیل، ارجنٹینا، یوروگوائے، نائجیریا، لیبیا اور تھائی لینڈ جیسے ممالک شامل ہیں۔ ایکس او کہلانے والے یہ لیپ ٹاپ نکولس نیگرو پونٹے نے متعارف کروائے ہیں جنہوں نے مذکورہ منصوبے کو سن دو ہزار چار میں امریکہ کے معروف تعلیمی ادارے ایم آئی ٹی کی ٹیکنالوجی لیب میں پیش کیا تھا۔ خیال ہے کہ ٹیسٹ مشینیں فروری میں بچوں تک پہنچنا شروع ہو جائیں گی جو منصوبے کے باقاعدہ آغاز کی طرف ایک قدم ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی نے نیگروپونٹے سے ایک بیان منسوب کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’مجھے ہنسی آتی ہے جب لوگ ایکس او کو بیکار مشین کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بچوں کو اصل مشین ملنی چاہیے، میری بات کا یقین کریں عنقریب میں بھی اپنی اصل مشین کے بدلے ایکس او لینا چاہوں گا۔ یہ کئی لحاظ سے بہت بہتر مشین ثابت ہوگی‘۔ | اسی بارے میں لیپ ٹاپ 100 ڈالر سے بھی کم میں29 September, 2005 | نیٹ سائنس پرانے کمپیوٹروں کے نئے گاہک28 April, 2005 | نیٹ سائنس لیپ ٹاپ کی بیٹری بہتر بنانے کا وعدہ28 March, 2005 | نیٹ سائنس لیپ ٹاپ مردوں کو ’بانجھ‘ کر سکتا ہے09 December, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||