BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 December, 2004, 04:41 GMT 09:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیپ ٹاپ مردوں کو ’بانجھ‘ کر سکتا ہے
لیپ ٹاپ
لیپ ٹاپ زیادہ دیر گود میں نہ رکھیں
امریکی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ لیپ ٹاپ یا گود میں رکھے جانے والے کمپیوٹر مردوں میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ہیومین رپروڈکشن نامی جریدے میں شائع کیے گئے ایک مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ لمبے عرصے تک رانوں پر لیپ ٹاپ رکھ کر کام کرنے سے فوطوں کا درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بچے پیدا کرنے والے جرثومے یا سپرم کی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

دی سٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک میں سائنسدانوں نے پتہ چلایا ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ ایک گھنٹے تک اپنی رانوں پر لیپ ٹاپ رکھ کر کام کرے تو اس کے فوطوں کا درجہ حرارت تقریباً تین درجہ بڑھ جاتا ہے۔

دی سٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک کی ریسرچ ٹیم کے اعلیٰ رکن ڈاکٹر ییفن شینکن کا کہنا ہے کہ جسم کو نارمل سپرم کی پیداوار اور ترقی کے لیے ایک مناسب ٹیسٹیکولر درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سرِ دست یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتنی حرارت کس رفتار سے اور کتنی دیر تک سپرم پیدا کرنے والے عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فوطوں کے درجۂ حرارت میں ایک ڈگری کے اضافہ سے سپرم کی پیداوار میں چالیس فی صد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

برٹش فرٹیلیٹی سوسائٹی کے ڈاکٹر ایلن پیسی کا کہنا ہے کہ یہ کتنی پریشانی کی بات ہے کہ صرف آدھے گھنٹے لیپ ٹاپ کو اپنی ران پر رکھنے سے فوطے کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

’جو مرد روزانہ لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں انہیں محتاط رہنا چاہیئے‘۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد